لدھیانہ: پنجاب کے شہر لدھیانہ میں ’’مشن صحت کاوچ‘‘ کے تحت صحت سے متعلق ہنگامی دیکھ بھال کی ٹریننگ دینے کا بڑا ہدف پورا کر لیا گیا ہے۔ اس مشن کے تحت 50 ہزار سے زائد اسکولی بچوں کو سی پی آر (کارڈیو پلمونری ریسیسیٹیشن) اور بلڈ پریشر مانیٹرنگ کی عملی ٹریننگ دی جا چکی ہے۔ یہ مہم ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن، ڈی ایم سی اسپتال اور مختلف اسکولوں کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہے۔
اس مشن کے بانی ڈاکٹر بشوو موہن، جو پنجاب کے معروف کارڈیالوجسٹ ہیں، کا مقصد دل کے دورے سے ہونے والی اموات اور ہائی بلڈ پریشر کے سبب پیدا ہونے والی سنگین بیماریوں سے لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لیے آگاہی اور عملی ٹریننگ فراہم کرنا ہے۔ ڈاکٹر بشوو موہن نے ہزاروں طلبہ کو اپنی نگرانی میں ٹریننگ دی اور انہیں ہنگامی صورتحال میں جان بچانے کے قابل بنایا۔
ضلعی افسران کے مطابق، اس مہم نے شہر میں صحت عامہ کے حوالے سے ایک مؤثر تبدیلی پیدا کی ہے۔ لدھیانہ کے ڈپٹی کمشنر اس پروگرام کی کامیابی سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اس مہم کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے نئے ہدف کو 50 ہزار سے بڑھا کر 5 لاکھ بچوں تک پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ “اگر ہر گھر میں کم از کم ایک شخص سی پی آر جانتا ہو تو بے شمار زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں۔” پروگرام کے دوران اسکولی بچوں نے عوام کے سامنے سی پی آر کی عملی تکنیک اور بلڈ پریشر مانیٹرنگ کا طریقہ دکھایا، جسے دیکھ کر شہریوں میں زبردست جوش و خروش اور شعور پیدا ہوا۔ بہت سے افراد نے موقع پر ہی یہ تکنیک سیکھنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
اس موقع پر مشن سے وابستہ اساتذہ، تربیت کاروں اور ہیلتھ ورکروں کو ان کی خدمات کے اعتراف میں اعزازات اور سرٹیفکیٹ پیش کیے گئے۔ تقریب میں پنجاب ایگریکلچرل یونیورسٹی (پی اے یو) کے نائب شیخ الجامعہ نے بھی شرکت کی اور پروگرام کی کامیابی کی بھرپور تعریف کرتے ہوئے طلبہ کو صحت عامہ کے اس مشن میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔ اس مشن کو معاشرے میں صحت سے متعلق شعور بڑھانے کی ایک تاریخی کوشش قرار دیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں لاکھوں انسانوں کی زندگیاں بچانے کی بنیاد بن سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

