Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Sri Lanka Visit: وزیر اعظم مودی کے سری لنکا دورے کے ساتھ ہی کچاتھیوو جزیرے پر بھی بحث شروع، جانیے کیا ہے پورا معاملہ

لچاتھیوو جزیرہ ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان ایک چھوٹا لیکن اہم متنازعہ علاقہ ہے۔ یہ ایک طویل عرصے سے دونوں ممالک کے ماہی گیروں اور رہنماؤں کے درمیان بحث کا موضوع رہا ہے۔

لچاتھیوو جزیرہ ہندوستان اور سری لنکا کے درمیان ایک چھوٹا لیکن اہم متنازعہ علاقہ ہے۔ یہ ایک طویل عرصے سے دونوں ممالک کے ماہی گیروں اور رہنماؤں کے درمیان بحث کا موضوع رہا ہے۔ کچاتھیوو جزیرہ رامیشورم سے تقریباً 33 کلومیٹر دور ہے۔ یہ دونوں ممالک کے ماہی گیروں کے لیے ہمیشہ خاص رہا ہے۔ برطانوی دور میں یہ مدراس پریذیڈنسی کا حصہ تھا۔

آزادی کے بعد 1974 میں سری لنکا کے وزیر اعظم کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا اور اس وقت کی وزیر اعظم ہند اندرا گاندھی اسے سری لنکا کو دے دیا۔ اس معاہدے کے تحت بھارتی ماہی گیروں کو وہاں مچھلیاں پکڑنے اور جال خشک کرنے کی اجازت تھی۔ اس کے علاوہ بغیر ویزا کے جزیرے کے چرچ جانے کی اجازت بھی دی گئی تھی۔

ماہی گیروں کی مشکلات

معاہدے کے بعد بھی ہندوستانی ماہی گیروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سری لنکا کی بحریہ نے انھیں بارہا پکڑا۔ ان کی کشتیاں بھی قبضے میں لے لی گئیں۔ اس سے ماہی گیروں کی آمدنی پر برا اثر پڑا۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن نے یہ مسئلہ بار بار اٹھایا ہے اور انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سری لنکا سے بات کرنے کی درخواست کی ہے۔

کچاتھیوو کو لے کر سیاسی ہلچل

کچاتھیوو کو لے کر کافی سیاسی اتھل پتھل بھی ہوتی رہی ہے۔ 1991 میں تمل ناڈو اسمبلی نے اسے واپس ہندوستان کا حصہ بنانے کی مانگ کی۔ 2008 میں اس وقت کی وزیر اعلیٰ جے للیتا نے سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا اور1974 کے معاہدے کو غلط قرار دیا۔ حال ہی میں نریندر مودی نے کانگریس کو اس معاہدے کے لیے نشانہ بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس نے لاپرواہی سے یہ جزیرہ سری لنکا کو دے دیا، جس سے ماہی گیروں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا۔ کچاتھیوو کا یہ تنازعہ آج بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک حساس مسئلہ ہے۔ تاہم ماہی گیروں کا مسئلہ حل کرنے کے لیے دونوں ممالک کو بات کرنی ہی ہوگی تاکہ ماہی گیروں کی روزی روٹی کے انتظام کے ساتھ علاقے میں امن بھی قائم ہو جائے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read