Urdu Conclave 2026

Veena Sikri, India’s former High Commissioner: طارق رحمان حکومت شیخ حسینہ کی واپسی کے اعلان سے خوفزدہ، وینا سیکری کا دعویٰ

وینا سیکری کے مطابق طارق رحمان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہندوستان آنے کے معاملے میں شیخ حسینہ کو وجہ بنایا جا رہا ہے۔ پہلے یہ قیاس آرائیاں تھیں کہ طارق رحمان 20 سے 22 اگست کے درمیان ہندوستان کا دورہ کرسکتے ہیں، لیکن شیخ حسینہ کی 5 اگست کی پریس کانفرنس کے بعد اچانک ان کی واپسی کے معاملے کو بنیاد بنایا جانے لگا۔انہوں نے کہا کہ حوالگی ایک قانونی معاملہ ہے اور اس میں وقت لگتا ہے۔

بنگلہ دیش میں ہندوستان کی سابق ہائی کمشنر وینا سیکری نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم طارق رحمان کی حکومت سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے دسمبر تک وطن واپس لوٹنے کے اعلان سے خوفزدہ ہے۔ ان کے مطابق عوامی لیگ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے ڈھاکہ ہندوستان سے دوری اختیار کر رہا ہے اور گزشتہ چھ ماہ سے نئی دہلی کی جانب سے دی گئی دعوت کا جواب نہیں دیا گیا ہے۔وینا سیکری نے کہا کہ تاریق رحمان حکومت شیخ حسینہ کو ہندوستان نہ آنے کی ایک وجہ کے طور پر پیش کر رہی ہے، حالانکہ حوالگی مکمل طور پر ایک قانونی معاملہ ہے۔ سابق سفارت کار کے مطابق تاریق رحمان ماضی میں خود شیخ حسینہ کے خلاف مختلف بیانات دیتے رہے ہیں، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کا موقف تبدیل ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم طارق رحمان کو ہندوستان آنے کی پہلی دعوت فروری 2026 میں وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد دی گئی تھی، لیکن چھ ماہ گزرنے کے باوجود اس دعوت کا کوئی جواب نہیں ملا۔ اس کے علاوہ چند ہفتے قبل بیمسٹیک کے چیئرمین کی حیثیت سے انہیں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے بھی دوسری دعوت دی گئی تھی۔

وینا سیکری نے عوامی لیگ پر پابندی کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ محمد یونس کے دور حکومت میں جب عوامی لیگ پر پابندی عائد کی گئی تھی، اس وقت  طارق  رحمان نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کی حمایت نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعت کو سرگرم رہنا چاہیے اور اگر عوام اسے پسند نہیں کریں گے تو ووٹ نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ جب تاریق رحمان لندن میں مقیم تھے تو وہ اکثر ویڈیو کے ذریعے سیاسی ریلیوں سے خطاب کرتے اور حکومت کے خلاف تبصرے کرتے تھے، لیکن شیخ حسینہ نے ان پر کبھی پابندی عائد نہیں کی۔

شیخ حسینہ کی واپسی کے اعلان کا حوالہ

وینا سیکری کے مطابق طارق رحمان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہندوستان آنے کے معاملے میں شیخ حسینہ کو وجہ بنایا جا رہا ہے۔ پہلے یہ قیاس آرائیاں تھیں کہ طارق رحمان 20 سے 22 اگست کے درمیان ہندوستان کا دورہ کرسکتے ہیں، لیکن شیخ حسینہ کی 5 اگست کی پریس کانفرنس کے بعد اچانک ان کی واپسی کے معاملے کو بنیاد بنایا جانے لگا۔انہوں نے کہا کہ حوالگی ایک قانونی معاملہ ہے اور اس میں وقت لگتا ہے۔ وینا سیکری نے دعویٰ کیا کہ شیخ حسینہ کے دسمبر تک بنگلہ دیش واپس جانے کے اعلان سے طارق  رحمان حکومت پریشان ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ عوامی لیگ کی مقبولیت کافی زیادہ ہے اور یہ مقبولیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ریٹائرڈ میجر جنرل دھرو کٹوچ نے بھی بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ڈھاکہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی پوزیشن بہتر کرنی ہوگی۔ شیخ حسینہ کی حوالگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ ہندوستان میں پناہ لے چکی ہیں اور جب تک وہ چاہیں گی، ہندوستان میں رہیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش چین اور پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کا فیصلہ ہے، لیکن اسے ہندوستان کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ ہندوستان کے لیے اپنی سرحد کی سلامتی سب سے اہم ہے۔

بنگلہ دیشی ہائی کمشنر کا مؤقف

ہندوستان میں بنگلہ دیش کے ہائی کمشنر ایم ریا ض حمید اللہ نے دونوں ممالک کے تعلقات پر کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بہت سے مسائل ہیں، لیکن ہر چیلنج باہمی تعاون کے ذریعے کام کرنے کا ایک موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہو رہے ہیں اور عام لوگ بھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان معاہدوں سے وہ کس طرح جڑ سکتے ہیں۔ہائی کمشنر نے 26 فروری کو وزیر اعظم طارق رحمان کی جانب سے ہندوستانی حکومت کو لکھے گئے خط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ’عام لوگوں کی امیدوں‘ اور ’کوآپریٹو انگیجمنٹ‘ کو دوبارہ مضبوط بنانے جیسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی معیشت کا تقریباً 95 سے 99 فیصد حصہ نجی شعبے پر منحصر ہے، اس لیے عوام اور کاروباری شعبے کے درمیان روابط کو مزید مضبوط کرنا ضروری ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read