نئی دہلی/ماسکو: عالمی سیاست میں تیزی سے بدلتے حالات اور مغربی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے سفارتی و تجارتی معاہدوں کے درمیان بھارت اور روس کے تزویراتی تعلقات ایک بار پھر مضبوط ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن رواں سال 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت کا دورہ کریں گے۔ روسی حکومت نے اس بات کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعظم نریندر مودی بھی اس سال کے آخر میں روس کا دورہ کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان سالانہ سربراہ اجلاس منعقد ہونے کی توقع ہے۔ صدر پوتن 10 ماہ کے اندر دوسری مرتبہ بھارت پہنچ رہے ہیں، جسے بین الاقوامی سفارتی حلقوں میں خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس سے قبل وہ دسمبر 2025 میں بھارت آئے تھے، جہاں انہوں نے 23 ویں بھارت-روس سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کی تھی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد یہ پوتن کا پہلا دورۂ بھارت تھا، کیونکہ اس سے پہلے وہ آخری مرتبہ 2021 میں بھارت آئے تھے۔
ماہرین کے مطابق مختصر عرصے میں صدر پوتن کا دوبارہ بھارت آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور اسٹریٹجک شراکت داری بدستور مضبوط ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی رواں ماہ بھارت کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں انہوں نے برکس وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کی تھی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ماسکو اور نئی دہلی برکس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت اس سال برکس گروپ کی صدارت کر رہا ہے۔ برکس دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ایک اہم اتحاد سمجھا جاتا ہے۔ ابتدا میں اس گروپ میں بھارت، روس، چین، برازیل اور جنوبی افریقہ شامل تھے، تاہم اب اس میں مصر، ایران، ایتھوپیا، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا جیسے نئے ممالک بھی مستقل اراکین کے طور پر شامل ہو چکے ہیں۔ اس توسیع کے بعد برکس کی عالمی اقتصادی اور سیاسی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
بھارت کی صدارت میں اس سال مختلف شہروں میں متعدد اعلیٰ سطحی اجلاس اور پالیسی مذاکرات منعقد کیے جا رہے ہیں۔ نئی دہلی کی کوشش ہے کہ “گلوبل ساؤتھ” یعنی ترقی پذیر ممالک کی آواز کو عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اقتصادی تعاون، توانائی تحفظ، دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور محفوظ سپلائی چین جیسے موضوعات کو بھی خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی سال کے آخری مہینوں، یعنی اکتوبر سے دسمبر کے درمیان روس کا دورہ کر سکتے ہیں۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف پہلے ہی اس دورے کی تیاریوں کے اشارے دے چکے ہیں، جبکہ وزیر اعظم مودی نے بھی روس جانے کی تصدیق کی ہے۔ اس مجوزہ دورے میں دفاعی معاہدوں، خام تیل کی تجارت، ایٹمی توانائی، خلائی تعاون اور علاقائی رابطہ کاری جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
بھارت اور روس کے درمیان سالانہ سربراہ اجلاس کی روایت سنہ 2000 سے جاری ہے۔ اس کے تحت دونوں ممالک کے سربراہان ہر سال باری باری ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کرتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں عالمی کشیدگی کے باوجود دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بھارت اس وقت روس سے بڑی مقدار میں رعایتی نرخوں پر خام تیل درآمد کر رہا ہے، جس کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سالانہ تجارت 65 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ روس سے بھارت کو خام تیل، کوئلہ، کھاد اور دفاعی سازوسامان کی بڑی سپلائی جاری ہے، جبکہ دونوں ممالک نئی ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے میدان میں بھی اشتراک کو فروغ دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق آئندہ برکس اجلاس اور مودی-پوتن ملاقاتیں عالمی سیاسی منظرنامے میں بھارت اور روس کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنا سکتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


