Urdu Conclave 2026

TTP kills 12 Pak Army soldiers: خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی کا حملہ، مارے گئے پاک آرمی کے 12 جوان، دعویٰ- جوابی کارروائی میں 35 ہلاک

پاکستان طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ اسے افغانستان کے کچھ ’گروپوں‘ سے خطرہ ہے، جن میں ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) بھی شامل ہیں۔ گزشتہ برسوں میں زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری پاکستانی طالبان، یعنی تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔

خیبر پختونخوا میں ٹی ٹی پی کا حملہ۔

نئی دہلی: خیبر پختونخوا میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حملے میں پاکستانی فوج کے 12 جوان ہلاک ہو گئے۔ پاک فوج کے میڈیا وِنگ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے یہ اطلاع دی۔ ہفتہ کے روز کے پی کے جنوبی وزیرستان اور خوارج میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں ٹی ٹی پی کے 35 دہشت گرد اور پاک فوج کے 12 جوان مارے گئے۔

دونوں طرف سے بھاری ہتھیاروں سے حملہ

صبح تقریباً 4 بجے جنوبی وزیرستان سے گزر رہے فوجی قافلے پر گھات لگا کر دونوں طرف سے بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں 12 فوجی ہلاک اور چار زخمی ہو گئے۔ پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا کہ مارے گئے ٹی ٹی پی دہشت گرد 10 سے 13 ستمبر کے درمیان دو الگ الگ جھڑپوں میں ہلاک ہوئے۔ خوارج میں 22 اور وزیرستان میں 13 دہشت گرد مارے گئے، اس طرح کل 35 ٹی ٹی پی دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔

ٹی ٹی پی کو’فتنۃ الخوارج‘ کہتا ہے پاکستان

پاکستانی فوج نے اس بیان میں افغانستان کی عبوری حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے اس طرح کے حملوں کو فروغ نہیں دے گی۔ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے پاکستان ’فتنۃ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ اسے افغانستان کے کچھ ’گروپوں‘ سے خطرہ ہے، جن میں ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) بھی شامل ہیں۔ گزشتہ برسوں میں زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری پاکستانی طالبان، یعنی تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔

یہ گروپ افغان طالبان سے الگ ہے، لیکن مبینہ طور پر ان کے ساتھ قریبی تعلق رکھتا ہے۔ وہیں، تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے سوشل میڈیا کے ذریعے حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ حملہ خیبر پختونخوا میں حالیہ مہینوں میں ہونے والے سب سے بڑے حملوں میں سے ایک ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read