Bharat Express DD Free Dish

Taliban

طالبان کے ریفیوجی کمیشن کے مطابق پاکستان سے روزانہ کم از کم چار ہزار افغان مہاجرین کو واپس بھیجا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مہاجرین کی بڑے پیمانے پر واپسی سے ٹرانسپورٹ کے نظام اور عوامی خدمات پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے، خاص طور پر مشرقی صوبوں میں جو افغانستان میں داخلے کے اہم راستے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ حالیہ برسوں میں کابل کے خطرناک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ رچرڈ بینیٹ نے شہری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کابل اور اسلام آباد سے تحمل کی اپیل کی۔

پاکستان نے افغانستان کے کئی شہروں پرفضائی حملے کئے، جس کے بعد طالبان نے اسلام آباد ایئرپورٹ کونشانہ بنایا۔ طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حملے میں پاکستانی فوج کوکافی نقصان پہنچا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے جمعہ کے روز کہا کہ پاکستان نے کئی افغان صوبوں میں نئے فوجی حملے کیے ہیں، جن میں کابل، قندھار، پکتیا اور پکتیکا شامل ہیں، جس کے نتیجے میں شہریوں خصوصاً خواتین اور بچوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

جب سے طالبان نے کابل میں اقتدار سنبھالا ہے، پاکستان میں سرحد پار سے دہشت گرد سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان صوبوں میں، جو افغانستان سے جڑے ہیں، وہاں ایسے واقعات زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے پورے جنوبی ایشیائی خطے میں عدم استحکام کے خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا بیان اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ امریکا ممکنہ طور پر ثالثی یا سفارتی کردار ادا کر سکتا ہے،

پاکستان کے معروف اخبار ڈان کی رپورٹ کے مطابق کراچی سمیت ملک کے بڑے شہروں میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ کراچی پولیس کے ترجمان کے مطابق ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آزاد خان نے شہر بھر میں سکیورٹی سخت کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

افغانستان کی خبر رساں ایجنسی خامہ پریس کے مطابق، بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ راکٹ حملے کے نتیجے میں ہوا، جبکہ دیگر کے مطابق یہ پہلے سے نصب بارودی سرنگ کا دھماکہ تھا۔ صحت کے حکام نے بتایا کہ کئی ہلاک اور زخمی افراد کو اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران 2026 میں بھی برقرار رہے گا۔ UN نے دو کروڑ سے زائد ضرورت مند افراد کے لیے 1.71 ارب ڈالر کی امدادی اسکیم پیش کی ہے، جس میں بھوک، صحت اور قدرتی آفات سے نمٹنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

گزشتہ چند دنوں میں افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر شدید تناؤ دیکھنے کو ملا ہے۔ دونوں جانب سے ہونے والی جھڑپوں میں کئی افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد قطر اور ترکی کی ثالثی میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا، حالانکہ، جنگ بندی کے باوجود کشیدگی کی فضا برقرار ہے۔