Urdu Conclave 2026

TTP

موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے پاکستان میں داخلی سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ جس ٹی ٹی پی کو وجود میں لانے میں پاکستان نے خود اہم کردار ادا کیا تھا، آج وہی ٹی ٹی پی پاکستان کے گلے کا کانٹا بن چکی ہے۔

پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ، بلوچستان، ایک بار پھر شدید کشیدگی اور بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال یہ خطہ دہائیوں سے سیاسی استحصال، فوجی آپریشنوں اور غیرملکی مفادات کی جنگ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ آج بھی بلوچ عوام خود کو ایک آزاد قوم سمجھتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ زبردستی کیے گئے الحاق کو قبول نہیں کرتے۔

افغان دارالحکومت جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب بم دھماکوں سے لرز اٹھا۔ رات کی تاریکی میں پاکستانی فضائیہ نے کابل کے اندر فضائی حملہ کیا۔ پاکستانی لڑاکا طیاروں نے مبینہ طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو نشانہ بنایا۔ افغان حکام نے کابل پر غیر معمولی فضائی سرگرمیوں کی تصدیق کی ہے۔

پاکستان طویل عرصے سے یہ کہتا آیا ہے کہ اسے افغانستان کے کچھ ’گروپوں‘ سے خطرہ ہے، جن میں ٹی ٹی پی اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) بھی شامل ہیں۔ گزشتہ برسوں میں زیادہ تر حملوں کی ذمہ داری پاکستانی طالبان، یعنی تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے قبول کی ہے۔

واضح رہے کہ 14 فروری 2019 کو جب جیش محمدکے دہشت گردوں نے جموں و کشمیر کے پلوامہ میں سی آر پی ایف کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا، تو ملک دنگ رہ گیا۔ اس حملے میں سی آر پی ایف کے 40 جوان شہید ہوئے تھے۔

پاکستان کی بدنام زمانہ دہشت گرد تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے اہل خانہ کے انتقال پر تعزیتی پیغام جاری کیا ہے۔

اس فضائی حملے کے بعد علاقے میں کشیدگی کافی بڑھ گئی ہے۔ حالیہ مہینوں میں، قستانی طالبان یا تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے پاکستانی افواج پر اپنے حملوں میں اضافہ کیا ہے۔ ساتھ ہی پاکستان نے افغان طالبان پر ان دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام لگایا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے معاملے پر افغانستان اور پاکستان آمنے سامنے ہیں۔ ٹی ٹی پی کا مقصد پاکستانی مسلح افواج اور ریاست کے خلاف دہشت گردی کی مہم چلا کر حکومت پاکستان کا تختہ پلٹنا ہے۔

ٹی ٹی پی کا گڑھ افغانستان اور پاکستان کی سرحد کے آس پاس کے قبائلی علاقے ہیں جہاں سے وہ اپنے جنگجوؤں کو بھرتی کرتا ہے۔ طالبان پاکستان کی فوجی طاقت سے بخوبی واقف ہیں، اس لیے وہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں گے۔ اگر تنازعہ کو آگے بڑھاتے ہیں تو اس کے پیچھے اس کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہوگی۔

پاکستان روایتی طور پر طالبان کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ کئی میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں کے درمیان گہرے تعلقات ہیں۔2021 میں جب طالبان نے دوسری بار کابل میں اقتدار سنبھالا تو اسلام آباد نے یہ مان لیا کہ ان کے درمیان اچھے تعلقات پھر سے شروع ہو جائیں گے۔ حالانکہ، اس کا یہ بھرم جلد ہی ٹوٹ گیا۔