Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

یونان کی راجدھانی ایتھنز میں جین آچاریہ لوکیش جی نے بھارتی سفیر اور سنتوں کے ساتھ ’وی سپورٹ پیس‘ عالمی مہم کا آغاز کیا۔ انہوں نے  جنگ سے متاثرہ عالم انسانیت کو امن اور ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فیصلہ کریں گے کہ تقریب دوبارہ شروع کی جائے یا نہیں۔ انہوں نے سیکریٹ سروس اور دیگر اداروں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فوری اور بہادرانہ کارروائی نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔

تقریب میں موجود عینی شاہد ایرن تھل مین نے بتایا کہ انہوں نے ایک شخص کو زمین پر گرتے دیکھا، جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے اس پر فائرنگ کی۔ اس شخص کے کندھے پر میگزین لٹکا ہوا تھا اور اس کے پاس رائفل موجود تھی۔

ایران نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس کی فوج پہلے سے زیادہ مضبوط اور تیار ہے اور وہ اپنی خودمختاری، قومی مفادات اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

ووٹنگ سے قبل شہر کی سڑکوں، بازاروں، بجلی کے کھمبوں، بے گھر افراد کے کیمپوں، کمیونٹی سینٹرز اور پناہ گزین خاندانوں کے علاقوں میں بھرپور انتخابی مہم دیکھنے کو ملی، جس سے عوامی دلچسپی کا اندازہ ہوتا ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق پانچ سے آٹھ گولیوں جیسی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد ہال میں افراتفری مچ گئی۔ سینکڑوں صحافیوں، سیاستدانوں اور مشہور شخصیات سے بھرے ہال کو فوراً خالی کرا لیا گیا۔ نیشنل گارڈ کو مقام پر تعینات کیا گیا اور علاقے کی سکیورٹی سخت کر دی گئی۔

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان منافع وصولی کے باعث اس ہفتے قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جہاں سونے کی قیمت میں 0.34 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔

ذرائع کے مطابق ایران نے امریکی وفد سے ملاقات سے بھی انکار کر دیا، جس میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔ یہ وفد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اسلام آباد پہنچنے والا تھا، لیکن ایران کے انکار کے بعد یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے شروع ہونے کے بعد ایران نے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھیں، جس کے باعث بین الاقوامی پروازیں معطل ہو گئی تھیں۔ تاہم اب پہلی بار حملوں کے آغاز کے بعد تہران سے بین الاقوامی پروازوں کا دوبارہ آغاز کیا گیا ہے۔ امام خمینی …

ایران اور امریکہ ایک بار پھر بات چیت کے لیے تیار نظر آ رہے ہیں، تاہم اس بار وہ براہِ راست نہیں بلکہ فاصلے برقرار رکھتے ہوئے اور دوسرے درجے کے نمائندوں کے ذریعے مذاکرات کر سکتے ہیں۔ ایران کا ایک وفد پاکستان پہنچ چکا ہے، جبکہ امریکی وفد کے ہفتہ کو وہاں پہنچنے کی توقع ہے۔