Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ایران کے اہم مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے باعث آبنائے ہرمز کو کھولنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر بیان میں امریکی بحری ناکہ بندی اور اسرائیلی کارروائیوں کو اس کشیدگی کی بڑی وجہ قرار دیا۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے بھی کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن دھمکیاں اور ناکہ بندی حقیقی بات چیت میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف تجارت کے نئے دروازے کھلیں گے بلکہ سرمایہ کاری، خدمات اور زرعی تعاون میں بھی نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی طلبہ اور نوجوانوں کے لیے روزگار اور پیشہ ورانہ مواقع میں بھی اضافہ ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق ابتدائی اسرائیلی حملہ جنوبی لبنان کے ایک گاؤں التیری میں ایک گاڑی پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار دو افراد ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر حزب اللہ کے زیر استعمال ایک عسکری ڈھانچے سے نکلی تھیں۔

ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ حملہ 19 اپریل کو امریکہ کی جانب سے ایک ایرانی جہاز کو پکڑنے کے ردعمل میں بھی ہو سکتا ہے۔

نیویارک میں قائم ایک انسانی حقوق تنظیم کے مطابق، بیتا ہمتی ایران کی ان پہلی خواتین مظاہرین میں شامل ہیں جنہیں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ دیگر رپورٹس کے مطابق کچھ خواتین کو ان کے کام کی جگہ سے گرفتار کیا گیا، جبکہ بعض کو مظاہروں میں مبینہ شرکت کے باعث حراست میں لیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ امریکہ اس وقت دوہری حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ ایک طرف فوجی حملوں کو روکا جا رہا ہے اور دوسری جانب مالیاتی و سمندری پابندیوں کو مزید سخت کیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جب حالات بے حد کشیدہ ہوگئے ہیں۔ جنگ بندی پر اختلاف، سمندری محاذ آرائی اور سفارتی تعطل جاری ہے۔

یہ تمام واقعات ایک ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب خطے میں سفارتی کوششیں جاری ہیں اور جنگ بندی کی مدت بڑھائی گئی ہے۔ تاہم امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی برقرار رکھنے کے فیصلے کو تہران ’’حملے کے مترادف‘‘ قرار دے رہا ہے، جس کے باعث کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔

اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی ٹی وی میزبان نے ایک نشریاتی پروگرام کے دوران اطالوی زبان میں میلونی کے خلاف سخت اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے وزیراعظم کو ’’انسانیت کے لیے شرمناک،جنگلی جانور، مصدقہ بیوقوف‘‘ اور دیگر نازیبا القابات سے مخاطب کیا۔

وزیراعظم بالیندر شاہ کی قیادت میں قائم حکومت کے لیے یہ دوسرا بڑا استعفیٰ ہے۔ اس سے قبل محنت و روزگار کے وزیر کمار شاہ کو بدعنوانی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے الزامات پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔