Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے امریکی وفد روانہ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی مدت 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے، جس سے قبل یہ مذاکرات انتہائی اہم سمجھے جا رہے ہیں۔  اگرچہ ٹرمپ اس عمل کے حوالے سے پُرامید نظر آتے ہیں، لیکن ایران کے سخت موقف کے باعث مذاکرات کی کامیابی پر اب بھی سوالیہ نشان برقرار ہے۔

رپورٹس کے مطابق چین نے اس طرح کے بحران سے نمٹنے کیلئے پہلے سے بڑے پیمانے پر تیل اور گیس ذخیرہ کر رکھا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین کے پاس 130 دن سے زیادہ کا اسٹریٹجک ذخیرہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوری طور پر وہاں کسی بڑے بحران کی صورتحال پیدا نہیں ہوئی ہے۔

وزیراعظم سنائے تاکائیچی نے متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر محفوظ مقامات اور بلند علاقوں کی طرف منتقل ہو جائیں۔ اسی دوران جے آر ایسٹ نے ٹوہوکو شنکانسن بلٹ ٹرین سروس کو ٹوکیو اور شن-آوموری کے درمیان معطل کر دیا ہے۔

اسلام آباد میں مجوزہ بات چیت کو ممکنہ کشیدگی سے قبل آخری سفارتی موقع سمجھا جا رہا ہے، تاہم ایران کی سخت پوزیشن اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطہ ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہو سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ایرانی عملے نے انتباہ نظر انداز کیا، جس کے بعد امریکی بحری جہاز نے انجن روم کو نشانہ بنا کر جہاز کو روک دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت امریکی میرینز نے جہاز کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے اور اس کی مکمل تلاشی لی جا رہی ہے

امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر جنگ جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ امریکی بحریہ نے ایک ایرانی مال بردار جہاز پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ اس کی تصدیق خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کی ہے۔

ایران نے امریکہ کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ بتایا جا رہا تھا کہ یہ مذاکرات جلد پاکستان میں ہونے والے تھے۔

دو ہفتے کی جنگ بندی 22 اپریل کو ختم ہونے جا رہی ہے، جبکہ پہلے دور کے مذاکرات تہران اور واشنگٹن کے درمیان اہم معاملات پر تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ اسلام آباد میں ہونے والی یہ بات چیت ممکنہ طور پر مکمل تصادم سے قبل آخری سفارتی موقع سمجھی جا رہی ہے۔

نیپالی حکام کے مطابق نئی پابندیوں میں ڈالڈا، مشروبات، گوشت، مچھلی، اچار اور ادویات سمیت کئی روزمرہ استعمال کی اشیاء شامل ہیں۔ انتظامیہ نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ بھارت سے خرید کر ان اشیاء کو نیپال میں فروخت کرنا اب ممنوع ہوگا۔

ایرانی حکام کے اس سخت موقف نے جاری جوہری مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیان سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی عمل متاثر ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی تعطل کا شکار ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ مسلسل دباؤ کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے اور اس کے مطالبات یکطرفہ ہیں، جن کا مقصد ایران کی خودمختاری کو محدود کرنا ہے۔