Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

24 جمہوری ممالک میں کیے گئے مارننگ کنسلٹ سروے میں وزیر اعظم نریندر مودی دنیا کے سب سے مقبول لیڈر بن گئے۔ انہیں 70 فیصد منظوری کی درجہ بندی ملی، جبکہ جرمن چانسلر فریڈرک مرز سب سے کم مقبول لیڈر ثابت ہوئے۔

عالمی توانائی بحران کے درمیان امریکہ نے بھارت سمیت دیگر ممالک کو روسی تیل خریدنے کی چھوٹ 16 مئی تک بڑھا دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دنیا بھر میں آٹھ سے دس جنگیں ختم کروائیں اور خود کو ’پیس میکر‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ممکنہ جنگ کو بھی انہوں نے ٹال دیا۔

جنگ بندی کی شرائط کے مطابق، ایران نے 40 دن کے بعد آبنائے ہرمزکومکمل طورپر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کیا۔ عراقچی نے کہا، ہم اس راستے کوکھول رہے ہیں۔ ایرانی حکام راستے کا تعین کریں گے۔

حکومتی فیصلے کے مطابق اس تحقیقات کے دائرے میں سات سابق وزرائے اعظم شامل ہوں گے، جن میں کے پی شرما اولی، پشپ کمل دہل ’پرچنڈ‘، شیر بہادر دیوبا، مادھو کمار نیپال، کھل راج ریگمی، جھل ناتھ کھنال اور بابورام بھٹّ رائی کے نام نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ 100 سے زائد سابق وزراء اور کئی اعلیٰ سرکاری افسران بھی اس بڑے احتسابی عمل کی زد میں آئیں گے۔

رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت تمام پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایس جے شنکر نے بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے پر زور دیا ہے۔ دونوں ممالک نے دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے باہمی شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ”نیوکلیئر ڈسٹ“ یعنی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ یہ مواد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

فرانس کے صدر ایمینول میکرون  نے بھی جنگ بندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کا مکمل خیر مقدم کرتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو یہ معاہدہ کمزور ہو سکتا ہے۔

بھارت سے حج 2026 کا باضابطہ آغاز 18 اپریل سے ہونے جا رہا ہے، جس کے تحت حجاج کرام کا پہلا قافلہ ملک کے مختلف امبارکیشن پوائنٹس سے سعودی عرب روانہ ہوگا۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری معلومات کے مطابق اس سال مجموعی طور پر 1,75,025 عازمین حج کے اس مقدس سفر پر روانہ ہونے کی توقع ہے۔

امریکہ نے واضح کیا ہے کہ لبنان اس سے قبل ہونے والی کسی ممکنہ مفاہمت کا حصہ نہیں تھا۔ امریکی قیادت کے مطابق اس حوالے سے پیدا ہونے والی کچھ غلط فہمیاں دور کر دی گئی ہیں اور موجودہ جنگ بندی ایک الگ پیش رفت ہے، جسے خطے میں امن کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔