Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے Fox News کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کی جنگ اختتام کے قریب ہے اور تہران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ اس دوران پاکستان میں جے ڈی وینس کی قیادت میں دوسری امن مذاکرات کی امکانات تیز ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکہ بروقت مداخلت نہ کرتا تو آج ایران ایک ایٹمی طاقت بن چکا ہوتا، جس سے عالمی توازن مکمل طور پر بدل جاتا۔ ٹرمپ کے مطابق، …

نائب صدر جے ڈی وینس نے واضح طور پر کہا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ایک عارضی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں فریق بات چیت جاری رکھنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن برسوں پر محیط بداعتمادی کو ایک ہی رات میں ختم کرنا ممکن نہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 13 اپریل کو پیش آیا جب چینی کارگو جہاز، جس پر بھاری مقدار میں میتھانول لدا ہوا تھا، آبنائے ہرمز سے گزر کر بحیرہ عمان میں داخل ہو گیا۔ حیران کن طور پر یہ وہی ٹینکر ہے جس پر امریکہ برسوں قبل پابندی عائد کر چکا تھا، اس کے باوجود یہ جہاز ایرانی حدود سے گزرتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ گیا۔

امریکہ اورایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لئے ایک بار پھر راست بات چیت ہوسکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ کے افسر 21 اپریل کو جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے ایرانی افسران کے ساتھ ممکنہ طور پر دوسری میٹنگ کے ذریعہ تبادلہ خیال کرسکتے ہیں۔

ناسا کے اعلان کے مطابق آرٹیمس III کو 2027 میں لانچ کیا جائے گا۔ اس مشن میں اورین اسپیس کرافٹ کو ایس ایل ایس راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجا جائے گا۔ اس مرحلے کا بنیادی مقصد چاند پر براہِ راست لینڈنگ نہیں بلکہ زمین کے نچلے مدار میں جدید لینڈرز کے ساتھ ہم آہنگی کی جانچ کرنا ہے۔

پہلے دور کی بات چیت میں اگرچہ کسی حتمی معاہدے تک رسائی حاصل نہیں کی، لیکن اس نے دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست رابطے کی راہ ہموار کر دی۔ اب دوسرے دور کی بات چیت کو اسی تسلسل کا اہم حصہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں پہلے دور میں زیرِ بحث آنے والے نکات کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔

بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کے روز قومی دارالحکومت دہلی میں سفارتی سرگرمیوں کی ایک طویل اور اہم سلسلے کے تحت یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور خلیجی ممالک کے اعلیٰ رہنماؤں سے ملاقاتیں اور تبادلہ خیال کیا، جسے عالمی سطح پر بھارت کی بڑھتی ہوئی سفارتی طاقت کا مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں رضا عارف نے کہا کہ دنیا کو جارح اور محافظ کے درمیان واضح فرق کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران صرف اپنے قانونی حقوق اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کھڑا ہے اور اس کا مقصد کسی بھی قسم کی جارحیت نہیں بلکہ اپنے دفاع کو یقینی بنانا ہے۔

موہوزی کینروگابا نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو نہ صرف سفارتی تعلقات منقطع کر دیے جائیں گے بلکہ ترک ایئرلائنز پر بھی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں ماہرین اسے غیر سنجیدہ اور سفارتی اصولوں کے منافی قرار دے رہے ہیں۔