Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

امریکی صدرڈونلڈ ترمپ کا رخ کافی سخت نظرآرہا ہے۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ڈیل چاہے ہو یا نہ ہو، اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم پہلے ہی جیت چکے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکہ اورایران کے درمیان پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والے اہم مذاکرات کسی نتیجے پرنہیں پہنچ سکی۔

سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 بلین ڈالر کی مالی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے، جس سے اس کے کمزور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور متحدہ عرب امارات کے 3.5 بلین ڈالر کے قرض کی ادائیگی میں مدد ملے گی۔

اسلام آباد میں جاری بات چیت میں پیش رفت کے باوجود اختلافات برقرار۔ ایرانی صدر نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران یہ بات کہی، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی تازہ صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد ایک نازک جنگ بندی کو مستحکم کرنے کے لیے اسلام آباد میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔ امریکی حکام اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کسی بھی بیرونی حمایت سے مذاکرات یا میدانِ عمل میں طاقت کا توازن متاثر نہ ہو۔ 

واشنگٹن کی بنیادی شرط یہ تھی کہ تہران واضح طور پر اس بات کی ضمانت دے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کے لیے ضروری وسائل تیار کرے گا۔ وینس کے مطابق امریکہ نے انتہائی لچکدار رویہ اختیار کیا، لیکن اس کے باوجود فریقین کے درمیان کوئی قابلِ قبول حل سامنے نہیں آ سکا۔

اطلاعات کے مطابق یہ مذاکرات رات گئے تک جاری رہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فریقین کسی مشترکہ فریم ورک تک پہنچنے کی سنجیدہ کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مرحلہ ممکنہ طور پر اس دور کے مذاکرات کا فیصلہ کن موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

امریکہ اور ایران جنگ بندی کے حوالے سے پاکستان کی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہی میز پر آئے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان پہلے دور کی ملاقات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہی، جس میں دونوں جانب سے کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے کافی لچکدار رویہ اختیار کیا گیا۔

اسلام آباد میں ہفتہ کے روزامریکہ اورایران کے درمیان اہم بات چیت ہو رہی ہے۔ یہ مذاکرات پاکستان کی ثالثی سے چل رہی ہے۔ پاکستانی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ تقریباً دو گھنٹے تک چلی امن مذاکرات میں دونوں فریق نے رضامندی تک پہنچنے کے لئے نرم رویہ دکھایا ہے۔ مذاکرات کا اگلا دور جلد شروع ہوگا۔

وزارت پیٹرولیم کے مطابق مارچ کے آغاز سے اب تک یہ نواں بھارتی جہاز ہے جو اس حساس راستے سے کامیابی کے ساتھ نکلنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس سے قبل کئی جہازوں کو انتظار کرنا پڑا تھا، تاہم حالات میں جزوی بہتری کے بعد اب رفتہ رفتہ نقل و حمل بحال ہو رہی ہے۔

اسلام آباد میں جاری امریکہ-ایران امن مذاکرات کے درمیان ایرانی وفد نے پاکستان کے وزیر اعظم شہبازشریف کے سامنے چاراہم مطالبات رکھے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے مطابق، مذاکرات کے لئے 15 دنوں کی ڈیڈ لائن طے کی گئی ہے۔ اگلے 48 گھنٹے بے حد اہم مانے جا رہے ہیں، جو طے کریں گے کہ جنگ بندی مستقل امن میں تبدیل ہوگا یا پھرکشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہوگا۔