Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

ایک رپورٹ کے مطابق نورڈک ممالک کے رہنماؤں نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو گرین ٹیکنالوجی، اختراعات اور اسٹریٹجک شراکت داری کے نئے ماڈل کے طور پر پیش کیا۔ ان ممالک کا ماننا ہے کہ بھارت کے ساتھ سپلائی چین، تحقیق، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے سے نہ صرف معاشی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ عالمی جغرافیائی سیاست میں بھی نئی مضبوطی پیدا ہوگی۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا کہنا تھا کہ حج میں اگرایران پرحملہ ہوتا ہے تو لاکھوں عازمین پھنس جائیں گے۔ عرب کے مسلمان بھی اس سے ناراض ہوں گے۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہیں امریکہ حج ختم ہونے سے پہلے کسی معاہدے پرپہنچنا چاہتا ہے۔

وزیر اعظم مودی کا حالیہ پانچ ممالک کا غیر ملکی دورہ صرف سفارتی معاہدوں، اسٹریٹجک شراکت داری اور عالمی تعاون تک محدود نہیں رہا بلکہ اپنی منفرد ’گفٹ ڈپلومیسی‘ کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں موضوعِ بحث بن گیا۔ اس دورے میں وزیر اعظم مودی نے عالمی رہنماؤں کو ایسے تحائف پیش کیے جن میں ہندوستان کی تہذیب، فنون، روایتی دستکاری، زرعی ورثہ اور ثقافتی تنوع کی جھلک نمایاں طور پر نظر آئی۔

وزیر اعظم مودی نے اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) کے ڈائریکٹر جنرل کیو ڈونگیو کو ہندوستان کے روایتی زرعی ورثے کی علامت سمجھے جانے والے مختلف اقسام کے چاول اور ملیٹس پر مبنی صحت بخش تحائف پیش کیے، جنہیں عالمی سطح پر کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم مودی نے جارجیا میلونی کو دو خصوصی تحائف پیش کیے، جن میں آسام کا مشہور موگا سلک اسٹال اور منی پور سے متاثر شِرُوئی للی سلک اسٹال شامل ہے۔ موگا سلک کو آسام کا ”گولڈن سلک“ کہا جاتا ہے اور یہ برہم پتر وادی کی ایک نایاب اور شاہانہ پہچان سمجھا جاتا ہے۔ اس سلک کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا قدرتی سنہری رنگ اور دیرپا مضبوطی ہے۔

وزیر اعظم مودی کا پانچ ممالک پر مشتمل تاریخی غیر ملکی دورہ مکمل ہوگیا ہے، جسے بھارت کی سفارتی، اقتصادی اور تزویراتی پالیسی کے لحاظ سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ 15 مئی کو نئی دہلی سے روانہ ہونے والے وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی کا دورہ کیا۔

خبر لکھے جانے تک وزیر اعظم مودی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اس ویڈیو کو 112 ملین یعنی 11.2 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو کو نہ صرف دلچسپ قرار دیا بلکہ اسے دونوں رہنماؤں کے دوستانہ تعلقات کی ایک خوبصورت علامت بھی بتایا۔

وزیر اعظم مودی کے پانچ ممالک کے حالیہ سفارتی دورے کا آخری مرحلہ اٹلی تھا، جہاں روم پہنچنے پر اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ان کا نہایت گرمجوشی سے استقبال کیا۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون، تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی اور عالمی چیلنجز سمیت کئی اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات امریکہ کے اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم اب ان دونوں ممالک نے ایران جنگ میں الجھے ہوئے امریکہ کو دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب نے امریکی خزانے سے 15 ارب ڈالرنکال لئے ہیں، جس کے امریکی معیشت پرتباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں نے کھل کرایران پر مزید حملوں کی مخالفت کی ہے۔

وزیر اعظم مودی اور اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بدھ کے روز اس عزم کا اظہار کیا کہ بھارت اور اٹلی اپنی گہری اسٹریٹجک شراکت داری، ثقافتی رشتوں اور مشترکہ جمہوری اقدار کی بنیاد پر عالمی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔