Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

منگل کی رات امریکہ نے ایران پر فضائی حملوں کا ایک اور سلسلہ شروع کیا، جس کے بعد تہران کی فضاؤں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام متحرک ہو گیا۔ جوابی کارروائی میں ایران نے اسرائیلی سرحد کے قریب اردن کے ایک شہر پر میزائل حملہ کیا، جس کے بعد بحرین اور سعودی عرب میں بھی ہنگامی انتباہ جاری کر دیا گیا۔

آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر میں بھیجے جانے والے خام تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس راستے کی اہمیت کے پیش نظر آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا جہازوں کی آمد و رفت میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈی اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرسکتی ہے۔

ایران کے ساتھ جاری تنازع کے درمیان بڑی تعداد میں امریکی ری فیولنگ طیارے اسرائیل پہنچ رہے ہیں۔ مسافر پروازیں متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ اسرائیل ایئرپورٹس اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ بین گورین ایئرپورٹ اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش تک پہنچ چکا ہے اور اب وہ ایک اور ری فیولنگ طیارے کو بھی سنبھالنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی جوہری ہتھیار حاصل کرے گا۔ اسی بیان کے پیشِ نظر ماہرین کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی صلاحیت فراہم کرنے سے مشرقِ وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ اور ہتھیاروں کی ممکنہ دوڑ کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی تازہ حملوں کے جواب میں بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں، فوجی وسائل اور دیگر عسکری تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں۔

اکتوبر2024 میں حماس کے سربراہ یحییٰ سنواراسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد تنظیم کسی ایک رہنما کے بجائے پانچ رکنی قیادتی کمیٹی کے ذریعے چلائی جا رہی تھی۔ مسلسل جنگ اور اعلیٰ رہنماؤں کی ہلاکت کے باعث نیا انتخاب نہیں ہوسکا تھا۔ اب حماس نے خلیل الحیہ کو باضابطہ طورپرنیا سربراہ منتخب کرلیا ہے۔

برطانیہ کے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم نے بھارتی وقت کے مطابق پیر کو اپنے عہدے کا حلف سنبھال لیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے انہیں نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد دیتے ہوئے بھارت اور برطانیہ کے درمیان جامع تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

امریکی مرکزی کمان نے کہا تھا کہ بحیرۂ عرب میں امریکی بحریہ اور فضائیہ کے وسائل ایران کے خلاف اعلان کردہ بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد اور ایرانی بندرگاہوں سے آنے جانے والی بحری آمدورفت کو محدود کرنے کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہے ہیں۔

قومی ادارہ برائے آفاتِ قدرتی کے ترجمان حافظ محمد یوسف حماد کے مطابق ان قدرتی آفات نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس سے عوام کی روزی روٹی اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ اور ایران کے درمیان حملوں اور سخت بیانات کے باعث کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے، جس سے خطے کی صورتحال مزید سنگین ہوتی جا رہی ہے۔