Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

سنت سنسد میں بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں اور خاص طور پر نئی نسل کو اپنی ثقافتی جڑوں سے جوڑے رکھنے کا معاملہ بھی نمایاں رہا۔ سنتوں نے کہا کہ اپنی زبان، روایات، تہذیب، اقدار اور سنسکار سے وابستگی آنے والی نسلوں کے لیے شناخت اور خود اعتمادی کی بنیاد بن سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق میانمار میں زلزلوں کی بڑی وجہ زمین کی ٹیکٹونک پلیٹوں کی مسلسل حرکت ہے۔ میانمار ایسے خطے میں واقع ہے جہاں کئی فعال ارضیاتی پلیٹیں اور فالٹس ایک دوسرے کے قریب موجود ہیں۔ ہندوستانی پلیٹ مسلسل شمال مشرق کی سمت حرکت کرتے ہوئے یوریشیائی پلیٹ کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس حرکت کے نتیجے میں زمین کی اندرونی تہوں میں دباؤ پیدا ہوتا ہے۔جب یہ دباؤ ایک خاص حد تک پہنچنے کے بعد اچانک خارج ہوتا ہے تو زمین کی سطح پر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔

زلزلہ صبح 4 بج کر 58 منٹ پر آیا اور اس کا مرکز زمین سے 15 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ زلزلے کے بعد سمندر میں تقریباً ایک میٹر بلند سونامی لہریں بھی ریکارڈ کی گئیں، تاہم سونامی کی وارننگ تقریباً تین گھنٹے بعد واپس لے لی گئی۔

حکام نے احتیاطی اقدام کے طور پرمتاثرہ اور قریبی علاقوں سے 900 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سرکاری احکامات پر عمل کریں اور کسی بھی خطرناک علاقے میں جانے سے گریز کریں۔

ہر سال 15 اگست کو ملک بھر میں یومِ آزادی منایا جاتا ہے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت اکیلا ملک نہیں جو 15 اگست کو آزادی یا قومی دن مناتا ہے۔ دنیا کے مزید پانچ ممالک بھی اسی تاریخ کو اپنی آزادی، آزادی کی بحالی یا قومی دن کی مناسبت سے اہم تقریبات منعقد کرتے ہیں۔

بھارت کے یومِ آزادی کے موقع پر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کا ایک بیان توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ زرداری نے پاکستان کے یومِ آزادی، جو 14 اگست کو منایا گیا، کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے بھارت کے حوالے سے ’اکھنڈ بھارت‘ کا ذکر کیا اور پاکستان میں ہندو برادری سے متعلق بھی ایک دعویٰ کیا۔

آزادی کے صرف ساڑھے تین سال بعد 15 اگست 1975 کی رات فوج کے کچھ اہلکاروں نے ڈھاکہ کے دھان منڈی علاقے میں واقع ان کی رہائش گاہ پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں شیخ مجیب الرحمٰن، ان کی اہلیہ شیخ فضیلۃ النساء مجیب، بیٹے شیخ کمال، شیخ جمال، شیخ رسیل اور بہوؤں سمیت خاندان کے 18 افراد مارے گئے۔ اس وقت ان کی دو بیٹیاں، شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ، بیرونِ ملک تھیں، اس لیے وہ محفوظ رہیں۔

اگر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع مزید طول پکڑتا ہے تو عالمی معیشت کو ایک اور بڑا جھٹکا برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے دنیا بھر کی حکومتوں کو بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔

عمر عبداللہ نے پاکستان کے اس دعوے پر سوال اٹھایا کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب پانی کے مسئلے کی بات آتی ہے تو پاکستان کی یہ ہمدردی کہاں چلی جاتی ہے؟ ہماری ندیوں کے استعمال کے حق کے معاملے میں اس نے کشمیریوں کا ساتھ کیوں نہیں دیا؟ انہوں نے کہا کہ6  ندیوں میں سے بھارت نے پنجاب میں بہنے والی تین ندیاں اپنے پاس رکھیں، جبکہ جموں و کشمیرسے متعلق تین ندیاں پاکستان کے حصے میں چلی گئیں۔

میم کے کیپشن میں طنزیہ انداز میں کہا گیا کہ جلد ہی انہیں کچرے کے ڈبے میں چھپایا جائے گا۔ایران کی جانب سے ایک اور پوسٹ میں ٹرمپ پر مزید طنز کیا گیا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا کہ جو شخص مبینہ طور پر بنکر میں چھپنے کی باتوں کا سامنا کر رہا تھا، وہ بالآخر اپنے دفتر میں مارا گیا، جبکہ بڑے جنگی بحری جہازوں اور جدید B-2 بمبار طیاروں پر فخر کرنے والے امریکی صدر کو آخرکار ایک فوڈ ٹرک کے ذریعے فرار ہونا پڑا،