Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

جین آچاریہ لوکیش مونی نے امریکہ-کینیڈا میں امن اور خیر سگالی کا پیغام پھیلانے کے لیے اپنا سفر شروع کیا ہے۔ ان کے سفر کا آغاز امریکی شہر شکاگو میں منعقدہ ’جین کنونشن‘ کی افتتاحی تقریب سے ہوا، جہاں انہوں نے سینکڑوں لوگوں سے خطاب کیا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا، "ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کے وزیر اعظم کملا پرساد بسیسر کے آباؤ اجداد بہار کے بکسر ضلع میں رہتے تھے۔ کملا جی خود بھی وہاں گئی ہیں۔

وزیر اعظم مودی نے ہندوستانی نژاد لوگوں سے بھی کہا کہ وہ ہندوستان آئیں اور اپنے آباؤ اجداد کی سرزمین دیکھیں اور اس سے اپنا تعلق گہرا کریں۔

ہندوستانی نژاد لوگوں کی ایک بڑی تعداد سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا، "یہاں موجود بہت سے لوگوں کے آباؤ اجداد بہار سے آئے تھے۔

وزیر اعظم کملا پرساد بسیسر نے کہا "ہمیں ایک ایسی شخصیت کی موجودگی کا شرف حاصل ہوا ہے جو ہمارے دل کے بہت قریب ہیں۔ یہ دورہ صرف ایک رسمی ملاقات نہیں ،بلکہ ہمارے لیے ایک اعزاز ہے۔

 ایران نے امریکہ کے ساتھ بات چیت کرنے سے متعلق شرط رکھ دی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ اوراسرائیل کی طرف سے مستقبل میں حملوں کوروکنے کی قابل اعتماد ضمانت نہیں دی جائے گی، تب تک دونوں ممالک سے کسی بھی طرح کی بات چیت بے ایمانی مانی جائے گی۔

روہنگیا، این آر سی، سی اے اے  اور شیخ حسینہ کی حوالگی جیسے مسائل پر ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں۔ ایسے میں بنگلہ دیش کا ترکیہ اور چین کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا بھارت کو تین طرفہ اسٹریٹجک دباؤ میں ڈال سکتا ہے۔

25 سال پہلے اپنے دورے کو یاد کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا، ’’تب ہم برائن لارا کی کور ڈرائیوز اور پل شاٹس کی تعریف کرتے تھے۔ آج سنیل نارائن اور نکولس پورن نوجوانوں میں وہی جوش و جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ تب سے ہماری دوستی مزید مضبوط ہوئی ہے۔‘‘

وزیر اعظم مودی کی آمد پر لوگ پرجوش نظر آئے اور وہ ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے نظر آئے۔ اس دوران روایتی موسیقی اور پرفارمنس کے ساتھ مقامی اور ہندوستانی ثقافت کا امتزاج دیکھا گیا۔ وزیر اعظم مودی کا 8 ماہ میں کیریبین خطے کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ اس سے قبل نومبر 2024 میں انہوں نے گیانا کا دورہ کیا تھا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان کیریبین ممالک کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ یہ کیریبین کمیونٹی کے ساتھ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی شراکت کی عکاسی کرتا ہے۔

اگرچہ طالبان نے چین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفیروں کا تبادلہ کیا ہے اور قطر میں ایک طویل عرصے سے سیاسی دفتر قائم ہے، لیکن ان ممالک نے طالبان کو افغانستان کی حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔