Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

الاسکا میں ہونے والی صدر ٹرمپ اور پوتن کی ملاقات ممکنہ جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے نہایت اہم ہونے والی ہے، جس میں خاص طور پر مشرقی یوکرین کے علاقوں پر کنٹرول سے متعلق تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

امریکی دورے کے دوران جنرل عاصم منیر نے کہا تھا کہ اگر پاکستان کو وجود کا خطرہ لاحق ہوا تو وہ خطے کو ایٹمی جنگ میں دھکیل سکتا ہے، مزید یہ بھی کہا کہ اگر بھارت نے دریائے سندھ پر ڈیم بنانے کی کوشش کی تو پاکستان اسے ’’ہر قیمت پر‘‘ روکے گا۔  وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ بھارت کسی بھی ایٹمی بلیک میل کے آگے جھکنے والا نہیں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھاتا رہے گا۔

آپ ایک ایسے صحافی کوجو مہینوں سے دن رات اپنا کام کر رہا ہو، قتل نہیں کر سکتے اور بعد میں صرف یہ کہہ کر بری ہو جائیں کہ "وہ حماس کے لیے کام کرتا تھا۔"

ایران کی وزارت خارجہ کہا ہے کہ ایران کی سرحد کے قریب ہونے والے تمام منصوبوں میں ’’قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت‘‘ کا مکمل احترام کیا جانا چاہیے۔

دریں اثنا نیتن یاہو نے اس منصوبے پر عالمی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ہم غزہ پر قبضہ کرنے نہیں جا رہے، ہم اسے حماس سے آزاد کروائیں گے۔‘‘

مظاہرے کے منتظم گروپ ڈیفنڈ آور جیوریز نے دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ اسکوائر میں 700 تک افراد موجود تھے، اور پولیس نے "اپنی تاریخ کی سب سے بڑی اجتماعی گرفتاری" کی تیاری کی تھی۔ گرفتار ہونے والوں میں سابق گوانتانامو بے قیدی معظم بیگ، این ایچ ایس کارکن، کوئیکرز، اور ایک نابینا وہیل چیئر یوزر شامل ہیں۔

وزارت دفاع نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ مالی نقصان ہوا ہے لیکن ملک کی سلامتی سب سے اہم ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نقصان کے باوجود پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی کل آمدنی 2019 میں 5,08,000 ڈالر سے بڑھ کر 2025 میں 7,60,000 ڈالر ہوگئی ہے۔

ایئر چیف مارشل امر پریت سنگھ نے کہا کہ ہندوستانی فضائیہ نے 'آپریشن سندور' کے دوران پانچ پاکستانی لڑاکا طیاروں اور ایک بڑے طیارے کو مار گرانے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے اسے بھارت کی جانب سے زمین سے فضا میں مار کرنے کا اب تک کا سب سے بڑا ریکارڈ قرار دیا۔

چینی ترجمان نے کہا کہ چینعالمی برادری کے ساتھ غزہ میں جنگ بندی کے حصول کے لیے، انسانی بحران کو کم کرنے اور دو ملکی حل کے نفاذ کے لیے مساوی کوششیں کرنے کے لیے تیار ہے، تاکہ مسئلہ فلسطین کا مکمل، منصفانہ اور دیرپا حل تلاش کیا جا سکے۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا:"اس ملاقات کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ ہم کچھ زمین واپس لیں گے، کچھ تبادلے ہوں گے۔ یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہوگا۔"