Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی پارٹی نے ان کی رہائی کے لئے ملک گیراحتجاج کیا۔ اس احتجاج میں پولیس نے 500 سے زائد حامیوں کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے یہ گرفتاریاں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیں۔

شیخ نے بتایا کہ وہ رکشا بندھن سے ایک ماہ پہلے ہی تیاری شروع کر دیتی ہیں۔ وہ چار یا پانچ راکھی بناتی ہیں اور ان میں سے جو انہیں سب سے زیادہ پسند آتی ہے، وہی راکھی وزیر اعظم مودی کی کلائی پر باندھتی ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی سابق پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے موزوں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے لاکھوں زندگیاں بچائی گئیں۔تاہم، ان دعوؤں پر بین الاقوامی سطح پر ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں

غزہ کے بچوں پر اسرائیلی جنگ کے نفسیاتی اثرات بھی گہرے ہیں۔ دس سالہ لانا کی بالوں اور جلد کی رنگت ایک رات میں سفید ہو گئی جب اس کے پناہ گاہ کے قریب بمباری ہوئی، جس سے صدمے کی وجہ سے رنگت کا خاتمہ ہوا۔

اس کا اعلان بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ اور نوبل انعام یافتہ ماہرِ معیشت پروفیسر محمد یونس نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں کیا ہے۔

یہ وہ علاقہ ہے جو بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا حصہ تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن 1993 کی جنگ میں آرمینیائی افواج کے قبضے میں آ گیا۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد یہ علاقہ ایک پیچیدہ تنازع کا مرکز بن گیا۔

اگر بولسونارو پر عائد الزامات کی بات کی جائے تو ان پر اور ان کے 33 ساتھیوں پر تختہ الٹنے کی سازش، پرتشدد جرائم میں شامل ہونے، جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش، اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد بھارت کو روس سے تیل درآمد کرنے پر امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

عمران خان کے بیٹے قاسم اورسلیمان اپنے والد کی حمایت میں ملک گیرتحریک میں شامل نہیں ہوسکیں گے کیونکہ ان کے اوور سیزسٹیزن کارڈ یا توگم ہوچکے ہیں، یا ختم ہوچکے ہیں۔ عمران خان کی بہن کے مطابق، ان دونوں نے نئے کارڈزکے لئے درخواستیں دی ہیں تاہم 5 اگست تک ان کے ملنے کا امکان نہیں ہے۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صحافیوں کے خلاف تشدد، قانونی کارروائیوں، اور ایکریڈیٹیشن کی منسوخی جیسے اقدامات نے بنگلہ دیش میں پریس کی آزادی کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف صحافیوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ ملک میں جمہوری اقدار اور آزادی صحافت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔