Bharat Express DD Free Dish

بین الاقوامی

 ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب روس-یوکرین جنگ کو تقریباً چار سال مکمل ہونے کو ہیں اور اس دوران ہزاروں جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو آنے والے دنوں میں مشرقی یورپ کی سیاست میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف جہاں انہوں نے ایران کو پہلے سے بھی بڑے حملے کی دھمکی دی، وہیں اب انہوں نے تہران کے ساتھ بات چیت کا عندیہ دے کر اپنے مؤقف میں واضح نرمی دکھائی ہے۔

سوڈان کے وزیر خارجہ محی الدین سلیم احمد ابراہیم دوسری بھارت-عرب وزرائے خارجہ میٹنگ میں شرکت کے لیے بھارت پہنچے ہیں۔ خصوصی گفتگو کے دوران انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت کی کھل کر تعریف کی اور بھارت کے عوام کو مبارکباد پیش کی۔

کمزور عالمی اشاروں کے درمیان شیئر بازار منفی رجحان کے ساتھ کھلا، سنسیکس 450 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ نیچے آ گیا۔ میٹل، کموڈیٹی اور آئی ٹی شیئرز میں زبردست فروخت دیکھی گئی، جبکہ مڈ کیپ اور اسمال کیپ حصص پر بھی دباؤ برقرار رہا۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کیوبا کو غیر معمولی اور سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے قومی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے حکم دیا ہے کہ کیوبا کو تیل فراہم کرنے والے ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے چھ تباہ کن جنگی جہاز اور ایک ایئرکرافٹ کیریئر پہلے ہی موجود ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف سے کہا کہ وہ کابینہ کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں۔ اسٹیو وِٹکوف نے بتایا کہ یوکرین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جنیوا میں ہونے والی بات چیت کے بعد جتنی پیش رفت ہوئی ہے، اتنی گزشتہ چار برسوں میں کبھی نہیں دیکھی گئی۔

بھارت 31 جنوری کو دوسری ہند-عرب وزرائے خارجہ میٹنگ (آئی اے ایف ایم ایم) کی میزبانی کرے گا۔ بھارت اور متحدہ عرب امارات اس میٹنگ کی مشترکہ صدارت کریں گے، جس میں عرب لیگ کے دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور عرب لیگ کے سکریٹری جنرل بھی شریک ہوں گے۔

کوموروس کے وزیر خارجہ مبے محمد، فلسطین کی وزیر خارجہ وارسن اغابیکیان شاہین اور سوڈان کے محی الدین سلیم احمد ابراہیم بھی دوسری ہند-عرب وزرائے خارجہ میٹنگ میں شرکت کے لیے نئی دہلی پہنچ چکے ہیں۔

حادثے کی جگہ ایک دور دراز اور پہاڑی علاقہ ہے، جو وینزویلا کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہ علاقہ گھنے جنگلات پر مشتمل ہے اور یہاں موسم بھی اچانک بدل جاتا ہے، جس کے باعث تلاش اور امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ حکام کے مطابق انہی وجوہات کی بنا پر ملبے تک پہنچنے میں وقت لگا۔