غزہ میں 6 ہفتے کی جنگ بندی کے لئے ایک نئی تجویز لائی گئی ہے۔
Israel-Hamas War: غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے حملے جاری ہیں۔ حماس کی تحویل میں اب بھی بہت سے یرغمال ہیں، جن کی رہائی کے لیے اسرائیلی فوجی غزہ پر مسلسل حملہ کر رہے ہیں۔ دریں اثنا، اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کے فوجیوں نے جمعہ کو تین یرغمالیوں کو “غلطی سے” خطرہ سمجھ کر گولی مار دی، جس سے وہ ہلاک ہو گئے۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا، “شجائیہ میں لڑائی کے دوران، آئی ڈی ایف نے غلطی سے تین اسرائیلی یرغمالیوں کو خطرہ سمجھا اور انہیں گولی مار دی۔ اس افسوسناک واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بیان میں کہا گیا ہے، “آئی ڈی ایف نے فوری طور پر واقعے کا جائزہ لینا شروع کیا… واقعے سے فوری سبق سیکھا گیا ہے۔ غزہ کی پٹی میں اترنے والے تمام فوجیوں کو اب الرٹ کردیا گیا ہے۔
فوج نے یرغمالیوں میں سے دو کی شناخت یوتم ہیم اور سیمر الطلالقہ کے طور پر کی ہے، جسے حماس کے 7 اکتوبر کو کبوتز کفار عزہ پر حملے کے دوران یرغمال بنایا گیا تھا۔ الطلالقہ کو کبوتز نیر ام سے اغوا کیا گیا تھا۔ فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خاندان کی درخواست پر تیسرے یرغمالی کا نام صیغہ راز میں رکھا گیا ہے۔
فوج کے چیف ترجمان ڈینیئل ہگاری نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے مغویوں کو ڈھونڈ لیا اور غلطی سے ان کی شناخت خطرے کے طور پر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ تینوں یا تو اپنے اغوا کاروں سے فرار ہو گئے تھے یا چھوڑ دیے گئے تھے۔ حالیہ دنوں میں اس علاقے میں اسرائیلی فوجیوں کی فلسطینی جنگجوؤں کے ساتھ شدید لڑائی ہوئی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حماس نے 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے دوران تقریباً 250 افراد کو یرغمال بنایا تھا، جس میں 1,139 افراد مارے گئے تھے۔ غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق، اس گروپ کے خلاف اسرائیل کی جوابی جنگ میں 18,700 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
-بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
