بھارت اور پاکستان میں جنگ بندی کے نفاذ کی اطلاعات کے درمیان پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی موت سے متعلق افواہوں نے کہرام مچا دیا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایک جعلی لیٹر سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا گیا جس میں عمران خان کی حراست میں موت کی اطلاع دی گئی تھی۔ اس لیٹر کے سامنے آتے ہی کہرام مچ گیا۔ تاہم جلد ہی پاکستانی حکومت نے ان دعوؤں کو خارج کر دیا ہے۔
دریں اثنا عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے پاکستانی حکومت پر عمران خان کی موت کی سازش رچنے کا الزام لگایا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کو قتل کرنے کی سازش رچی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے بیان میں میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان جو اس وقت جیل میں ہیں، کو قتل کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کے کچھ عناصر بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے عمران خان کو مار ڈالنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ خط میں دعویٰ کیا گیا کہ جیل پر دھماکہ خیز مواد سے حملہ کرکے اسے بھارتی فوج کے حملے کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے، جو جمہوریت اور سچائی پر حملہ ہوگا۔
پاکستان کا سرکاری بیان
اس دوران پاکستان کی وزارت خارجہ نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو جیل میں ہی رکھا گیا ہے۔ وزارت نے کہا ’’افواہوں کے درمیان ہمیں یہ بتانا ضروری ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان جیل میں ہیں، واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔‘‘ پاکستانی حکومت نے اس واقعے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس کی شفاف تحقیقات کے لیے پرعزم ہے اور اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ وزارت نے لوگوں سے امن اور صبر برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
چند روز قبل جیل میں ان کے ساتھ جسمانی اور جنسی زیادتی کی خبریں بھی وائرل ہوئی تھیں تاہم سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی۔ نہ ہی عمران خان کی پارٹی نے اس پر کوئی بیان جاری کیا ہے۔ تاہم تازہ بیان میں پی ٹی آئی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے قائد کی حفاظت کے لیے سڑکوں پر نکل آئیں اور سازشیوں کو بے نقاب کریں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



