Bharat Express DD Free Dish

Global Welcome for Israel-Lebanon Ceasefire: اسرائیل-لبنان جنگ بندی کا عالمی سطح پر خیر مقدم، خلیجی ممالک نے خلاف ورزی سے بچنے پر دیا زور

فرانس کے صدر ایمینول میکرون  نے بھی جنگ بندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کا مکمل خیر مقدم کرتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو یہ معاہدہ کمزور ہو سکتا ہے۔

نئی دہلی:اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کے اعلان کا دنیا بھر میں خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ جنگ بندی کی خبر سامنے آتے ہی لبنان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر جشن منایا اور آتش بازی کی۔ایران نے بھی اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا  تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران لبنان میں جنگ بندی کے فیصلے کو مثبت قدم سمجھتا ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے لبنان کو ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کا حصہ قرار دینے پر امریکی حکام نے اختلاف کیا۔ امریکی نائب صدر  جے ڈی وینس نے اسے غلط فہمی قرار دیا۔

 ،فرانس کے صدر ایمینول میکرون  نے بھی جنگ بندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کا مکمل خیر مقدم کرتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو یہ معاہدہ کمزور ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحد کے دونوں جانب شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، حزب اللہ کو ہتھیار چھوڑنے ہوں گے اور اسرائیل کو لبنان کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے۔شہباز شریف ، وزیر اعظم پاکستان نے بھی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا اور اسے سفارتی کوششوں کی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا رہے گا۔متحدہ عرب امارات نے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی علاقائی استحکام کے لیے سازگار ماحول پیدا کرے گی، جب کہ اردن نے لبنانی قیادت کے مثبت کردار کی تعریف کی۔ اس موقع پر لبنان کے صدر جوزف عون، وزیر اعظم نواف سلام اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کا بھی ذکر کیا گیا۔

اس کے علاوہ سعودی عرب اور عمان نے بھی جنگ بندی کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے تمام فریقین سے معاہدے کی پابندی کرنے اور کسی بھی خلاف ورزی سے بچنے پر زور دیا۔مصر نے اسرائیل سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں 2006 کے تنازع کے بعد فوجی سرگرمیوں کو روکنے کی بات کی گئی تھی۔نیوزی لینڈ نے بھی جنگ بندی کا خیر مقدم کیا۔ نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرزنے کہا کہ تمام فریقین کو جنگ بندی پر عمل کرنا اور مستقل امن کے لیے مذاکرات جاری رکھنا ضروری ہے۔عالمی لیڈروں نے اس جنگ بندی کو خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read