Bharat Express DD Free Dish

Hezbollah

اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کے ترجمان ایفی ڈیفرین نے ایران کی کارروائی کو "بہت بڑی غلطی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج ہر ممکنہ حملے کا جواب دینے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی سربراہ ایال ضمیر مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور آئندہ اقدامات سے متعلق منصوبوں کی منظوری دے رہے ہیں۔

صدر عون نے کہا کہ لبنان کے تمام علاقوں اور تمام برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ کئی دہائیوں پر محیط تنازعات سے تھک چکے ہیں اور اب استحکام اور امن چاہتے ہیں۔

میزائل داغے جانے کے بعد کیریات شمونہ شہر اور لبنان کی سرحد کے قریب شمال مشرقی اسرائیل کے آٹھ گاؤں میں فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بج اٹھے، جس کے باعث ہزاروں رہائشی محفوظ پناہ گاہوں کی جانب منتقل ہو گئے۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق، 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 3 ہزار 269 ہو گئی ہے، جبکہ 9 ہزار 840 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار 27 مئی تک کے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ابتدائی اسرائیلی حملہ جنوبی لبنان کے ایک گاؤں التیری میں ایک گاڑی پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس میں سوار دو افراد ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے دو گاڑیوں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر حزب اللہ کے زیر استعمال ایک عسکری ڈھانچے سے نکلی تھیں۔

فرانس کے صدر ایمینول میکرون  نے بھی جنگ بندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس فیصلے کا مکمل خیر مقدم کرتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر خدشہ ظاہر کیا کہ اگر فوجی کارروائیاں جاری رہیں تو یہ معاہدہ کمزور ہو سکتا ہے۔

امریکہ اورایران کے درمیان 14 دنوں کی جنگ بندی پربھلے ہی رضا مندی بن گئی ہو، لیکن مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ابھی بھی برقرارہے۔ اسی درمیان اسرائیل نے حزب اللہ سربراہ نعیم قاسم کے بھتیجے کو ہلاک کرنے کا بڑا دعویٰ کیا ہے۔

پیر کی رات کیے گئے حملوں میں آئی ڈی ایف نے جنوبی لبنان کے چار دیہات اور ملک کی مشرقی سرحد کے قریب واقع عمارتوں کو نشانہ بنایا۔

آئی ڈی ایف نے حزب اللہ کے چیف کو نشانہ بنا کر یہ حملہ کیا تھا۔ 2016 میں امریکہ نے طباطبائی کو سب سے زیادہ مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا تھا، اور ان پر 50 لاکھ کا انعام بھی رکھا گیا تھا۔ 2023-24 میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے شدید حملوں میں آئی ڈی ایف نے حزب اللہ کے زیادہ تر افسران کو ہلاک کر دیا تھا۔

شیخ نعیم قاسم نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان کے مسائل ’’اسرائیلی حملوں اور امریکہ کے حمایت یافتہ قبضے‘ کی وجہ سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے بحرانوں کے حل کے لیے پہلا قدم یہ ہے کہ اسرائیل اپنے حملوں کو مکمل طور پر روکے، مقبوضہ لبنانی علاقوں سے ہٹے، قیدیوں کو رہا کرے اور ملک کی تعمیر نو کے ذریعے لبنان کی خودمختاری کو بحال کرے۔