بنگلہ دیش کے صدرمحمد شہاب الدین نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا استعفیٰ پارلیمنٹ کے اسپیکرحافظ الدین احمد نے قبول کرلیا ہے۔ آئین کے مطابق نئے صدر کے انتخاب تک اسپیکرہی قائم مقام صدرکے طورپرذمہ داریاں انجام دیں گے۔ اسپیکرحافظ الدین احمد نے بتایا کہ محمد شہاب الدین مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں، جس کی وجہ سے وہ جسمانی اورذہنی طورپر صدرجیسے اہم آئینی عہدے کی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہیں رہے، اسی لئے انہوں نے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ کہا جاتا ہے کہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی بنگلہ دیش واپسی کے اعلان کے بعد سے تعطل برقرارہے اوریہی استعفیٰ کی سب سے بڑی وجہ رہی۔
مقامی اخبارپرتھم آلوکے مطابق، بنگلہ دیش کے آئین کے آرٹیکل 50(3) کے تحت صدر دستخط شدہ خط کے ذریعہ اسپیکرکواستعفیٰ پیش کرسکتے ہیں۔ جبکہ آرٹیکل 54 کے مطابق اگرصدرکا عہدہ خالی ہوجائے یا وہ بیماری، غیرحاضری یا کسی اوروجہ سے اپنے فرائض انجام نہ دے سکیں تونئے صدرکے انتخاب تک اسپیکرہی صدرکے اختیارات استعمال کرتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 123(2) کے مطابق، صدرکے انتقال، استعفیٰ یا عہدے سے ہٹائے جانے کی صورت میں 90 دن کے اندرنئے صدرکا انتخاب ضروری ہے۔ آرٹیکل 48(1) کے مطابق صدرکا انتخاب پارلیمنٹ کے اراکین کے ووٹوں سے کیا جاتا ہے۔
پارلیمنٹ میں بی این پی کو اکثریت
بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں حکمراں جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو واضح اکثریت حاصل ہے، اس لیے امکان ظاہرکیا جا رہا ہے کہ پارٹی کا امیدوارہی ملک کا اگلا صدر منتخب ہوگا۔ گزشتہ کئی دنوں سے بی این پی کی اعلیٰ قیادت میں اس بات پرغورجاری تھا کہ محمد شہاب الدین کے بعد صدرکے عہدے کے لیے کس شخصیت کو نامزد کیا جائے۔ گزشتہ چند روز سے محمد شہاب الدین کے ممکنہ استعفیٰ کی خبریں سیاسی حلقوں میں گردش کر رہی تھیں۔ ذرائع کے مطابق، وہ ذہنی طورپراستعفیٰ دینے کے لیے تیارتھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے جمعرات کوبنگ بھون کے سینئرحکام سے ملاقات کے دوران اپنے عہدہ چھوڑنے کے فیصلے سے بھی آگاہ کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: Tarique Rahman vs Sheikh Hasina: شیخ حسینہ کی واپسی کے اعلان سے بنگلہ دیش میں ہنگامہ، صدر کو ہٹانے جا رہی ہے طارق رحمان حکومت
2023 میں صدر بنے تھے محمد شہاب الدین
محمد شہاب الدین نے 24 اپریل 2023 کوعوامی لیگ کی حکومت کے دورمیں بنگلہ دیش کے 22ویں صدرکی حیثیت سے حلف لیا تھا۔ ان کی آئینی مدت اپریل 2028 تک تھی، تاہم انہوں نے مدت مکمل ہونے سے تقریباً ڈھائی سال پہلے ہی استعفیٰ دے دیا۔ جولائی 2024 میں بڑے عوامی احتجاج کے بعد شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے سے ہی محمد شہاب الدین کے صدرکے عہدے پربرقراررہنے سے متعلق سیاسی بحث جاری تھی۔ بعد ازاں 13ویں پارلیمانی انتخابات میں بی این پی کے اقتدارمیں آنے کے بعد ان کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں مزید تیزہوگئی تھیں۔ اب ان کے استعفیٰ کے بعد ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے پرتبدیلی کی راہ ہموارہوگئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


