Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh Nationalist Party

بنگلہ دیش میں تقریباً 35 سال بعد صدر کے عہدے کے لیے براہ راست انتخابی مقابلہ ہوا ہے۔ اس بار کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ ایک سے زیادہ امیدوار صدارتی انتخاب میں میدان میں تھے۔ اس سے قبل پارلیمانی ووٹنگ کے ذریعے صدارتی انتخاب 1991 میں ہوا تھا۔ مرزا فخر الاسلام عالمگیر کو گزشتہ ہفتے ہی صدارتی انتخاب کے لیے بی این پی کا امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔

بنگلہ دیش کے صدرمحمد شہاب الدین نے استعفیٰ دے دیا ہے، جسے اسپیکرحافظ الدین احمد نے قبول کرلیا ہے۔ آئین کے مطابق، اب سپیکرنئے صدرکے انتخاب تک قائم مقام صدرکے طورپرذمہ داری سنبھالیں گے۔

حلف برداری کے دوران پارٹی کے ارکان نے بنیادی مشیر محمد یونس کو سخت پیغام دیا۔ بی این پی کے ارکان نے جولائی چارٹر کی حلف برداری نہیں کی۔ ریفرنڈم کے سلسلے میں 12 فروری کو قومی پارلیمانی انتخابات کے ساتھ ووٹنگ کرائی گئی تھی۔

پرتھوم آلو میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق، ڈھاکہ ساؤتھ سٹی کے بی این پی کنوینر اور خالدہ ضیاء کے انتخابی کوآرڈینیٹر منشی رفیق الاسلام عالم (جو مجنوں کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں) نے بھی اسی حلقے سے بی این پی امیدوار کے طور پر اپنا نامزدگی فارم داخل کیا ہے۔

بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی بگڑتی ہوئی صحت کے حوالے سے ملک بھر میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ ان کی جلد صحت یابی کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں دعاؤں اور عبادات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران بی این پی اسٹینڈنگ کمیٹی نے ایک بڑا اور سنگین دعویٰ کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ عوامی لیگ حکومت کے دورِ اقتدار میں جیل میں قید کے دوران خالدہ ضیا کو ’سلو پوائزننگ‘ دیا گیا تھا۔

حزب اختلاف کی بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور اس کے اتحادیوں نے وزیر اعظم شیخ حسینہ کے استعفیٰ اور "آزادانہ اور منصفانہ انتخابات" کے لیے نگراں حکومت کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے انتخابی عمل کے مکمل بائیکاٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل تشدد کی بنیادی وجہ یہی ہے۔