Bharat Express DD Free Dish

BNP

بنگلہ دیش کے صدرمحمد شہاب الدین نے استعفیٰ دے دیا ہے، جسے اسپیکرحافظ الدین احمد نے قبول کرلیا ہے۔ آئین کے مطابق، اب سپیکرنئے صدرکے انتخاب تک قائم مقام صدرکے طورپرذمہ داری سنبھالیں گے۔

حالیہ عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ 297 میں سے 209 نشستیں جیت کر پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کی اور حکومت بنانے کی راہ ہموار کی۔ دائیں بازو کی جماعت بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے بھی 13ویں پارلیمانی انتخابات میں 68 نشستیں جیتیں، جبکہ عوامی لیگ کو انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

ڈھاکہ میں 17 فروری کو ہونے والی تاریخی حلف برداری تقریب کے لیے وزیراعظم مودی کو مدعو کیا گیا ہے۔ تاہم اسی دن فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ان کی اہم دوطرفہ ملاقات اور ’اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ میں مصروفیات کے باعث ان کا جانا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

بنگلہ دیش میں اقتدار کا طویل انتظار ختم ہو گیا ہے۔ 17 سال لندن میں قیام کے بعد وطن واپس آنے والے طارق رحمان ہفتہ کو وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لینے جا رہے ہیں۔ طویل جلاوطنی، عدالتی مقدمات اور سیاسی غیر یقینی کے بعد ان کی واپسی کو ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت گرنے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد الیکشن ہو رہے ہیں۔ اس میں بی این پی سربراہ طارق رحمٰن نے دو سیٹوں سے الیکشن لڑا تھا اور دونوں پر جیت درج کی ہے۔

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ ان انتخابات میں شیخ حسینہ کی جماعت میدان سے باہر ہے، جبکہ جماعت اسلامی اور بی این پی  کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ تقریباً 12 کروڑ ووٹر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

پرتھوم آلو میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق، ڈھاکہ ساؤتھ سٹی کے بی این پی کنوینر اور خالدہ ضیاء کے انتخابی کوآرڈینیٹر منشی رفیق الاسلام عالم (جو مجنوں کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں) نے بھی اسی حلقے سے بی این پی امیدوار کے طور پر اپنا نامزدگی فارم داخل کیا ہے۔

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان سے قبل ہی سیاسی ماحول شدید کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ غازی پور ضلع میں بی این پی (بنگلہ دیش نیشنلِسٹ پارٹی) کے دو گروپوں میں پارٹی کے نامزدگی فارم کو لے کر خوفناک تصادم ہوئی، جس میں کم از کم 10 افراد زخمی ہو گئے۔

بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق محمد یونس نے جمعہ کی شب اپنے قانونی مشیر آصف نذرل اور خصوصی معاون منیر حیدر کو بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن خالدہ ضیا کی طبی صورتحال جاننے کے لیے ایور کیئر اسپتال بھیجا تھا۔

شیخ حسینہ کی اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے جنرل سیکرٹری مرزا فخر الاسلام عالمگیر نے کہا کہ محمد یونس کی عبوری حکومت کے پاس انتخابات کے انعقاد کے لیے کوئی روڈ میپ تیار نہیں ہے۔