Bharat Express DD Free Dish

Tarique Rahman sworn in as Prime Minister: بنگلہ دیش میں نئی حکومت تشکیل، بی این پی لیڈر طارق رحمان نے وزیر اعظم کے عہدے کا لیا حلف

حالیہ عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ 297 میں سے 209 نشستیں جیت کر پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کی اور حکومت بنانے کی راہ ہموار کی۔ دائیں بازو کی جماعت بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے بھی 13ویں پارلیمانی انتخابات میں 68 نشستیں جیتیں، جبکہ عوامی لیگ کو انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

ڈھاکہ: بنگلہ دیش میں سیاسی بے یقینی کے طویل دور کے بعد نئی منتخب حکومت قائم ہو گئی ہے اور طارق رحمان نے منگل کے روز وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا۔ ملک میں 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے اور اس کے بعد ہونے والے پرتشدد واقعات کے باعث سیاسی خلا پیدا ہو گیا تھا۔

شیخ حسینہ کی برطرفی کے بعد محمد یونس نے بطور عبوری سربراہ، ’’چیف ایڈوائزر‘‘ کی حیثیت سے ملک کی قیادت سنبھالی تھی۔ پیر کے روز انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے کر اقتدار نو منتخب حکومت کے حوالے کر دیا۔ استعفیٰ دیتے ہوئے محمد یونس نے کہا تھا کہ عبوری حکومت اپنا منصب چھوڑ رہی ہے، لیکن جمہوریت، اظہارِ رائے کی آزادی اور بنیادی حقوق کا جو عمل شروع ہوا ہے، اسے رکنا نہیں چاہیے۔

حالیہ عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ 297 میں سے 209 نشستیں جیت کر پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کی اور حکومت بنانے کی راہ ہموار کی۔ دائیں بازو کی جماعت بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے بھی 13ویں پارلیمانی انتخابات میں 68 نشستیں جیتیں، جبکہ عوامی لیگ کو انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

طارق رحمان کون ہیں؟

طارق رحمان 20 نومبر 1965 کو ڈھاکہ میں پیدا ہوئے۔ وہ سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا اور سابق صدر ضیاء الرحمٰن کے صاحبزادے ہیں۔ 36 برس بعد وہ ملک کے پہلے مرد وزیراعظم بنے ہیں۔

انہوں نے تقریباً 17 سال جلاوطنی میں گزارے اور اس دوران جیل، مقدمات اور سیاسی دباؤ کا سامنا کیا۔ ایک مقدمے میں انہیں سزائے موت بھی سنائی گئی تھی، لیکن وہ اس وقت ملک سے باہر تھے۔ جلاوطنی کے دوران انہیں ریڑھ کی ہڈی کے شدید عارضے کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

طارق رحمان 1990 سے سیاست میں سرگرم ہیں اور 1991 میں اپنی والدہ خالدہ ضیا کو وزیراعظم بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 2024 میں شیخ حسینہ کے خلاف طلبہ تحریک کے بعد ان کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہوئی۔ عبوری دور حکومت میں محمد یونس کے زمانے میں ان کے خلاف زیر التوا مقدمات ختم کیے گئے، جس سے انہیں سیاسی طور پر بڑی راحت ملی۔

دسمبر 2025 میں انہوں نے لندن سے وطن واپسی کا اعلان کیا۔ ڈھاکہ پہنچنے کے فوراً بعد ان کی والدہ خالدہ ضیا کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد انہوں نے ڈھاکہ-17 اور بوگرا-6 کی نشستوں سے انتخاب لڑا اور دونوں مقامات سے کامیابی حاصل کی۔

نئے وزیراعظم کے طور پر طارق رحمان کو سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور جمہوری اداروں کی مضبوطی جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا۔ عوام کو امید ہے کہ نئی حکومت ملک میں استحکام اور ترقی کا نیا باب رقم کرے گی۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read