Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh Elections

حالیہ عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) نے شاندار کامیابی حاصل کی۔ 297 میں سے 209 نشستیں جیت کر پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کی اور حکومت بنانے کی راہ ہموار کی۔ دائیں بازو کی جماعت بنگلہ دیش جماعت اسلامی نے بھی 13ویں پارلیمانی انتخابات میں 68 نشستیں جیتیں، جبکہ عوامی لیگ کو انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔

حالیہ انتخابات کے فوری بعد عوامی لیگ نے بنگلہ دیش میں اپنی سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ پارٹی کے لیڈروں نے سب سے پہلے کھلنا شہر میں اپنا دفتر کھولا ہے، جہاں شیخ مجیب الرحمٰن اور شیخ حسینہ کی تصاویر نصب کی گئی ہیں۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب بنگلہ دیش میں عوامی لیگ پر پابندی عائد ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی حکومت کے قیام کے بعد صدر کے عہدے میں بھی تبدیلی ہو سکتی ہے۔ اس منصب کے لیے سینئر رہنما ڈاکٹر خنداکر مشرف حسین کے نام پر غور کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق نئی حکومت کی تشکیل بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جہاں تجربہ کار قیادت اور نئی نسل کے رہنماؤں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بنگلہ دیش میں جمعرات کو 13ویں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ کا عمل ختم ہوگیا۔ سخت سیکیورٹی انتظامات اور عوامی جوش و خروش کے درمیان ملک بھر کی 299 نشستوں پر ووٹ ڈالے گئے، تاہم انتخابی عمل کے دوران کئی پولنگ بوتھوں پر تشدد، بدامنی اور خواتین پولنگ ایجنٹس کو ہراساں کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔

بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے۔ ان انتخابات میں شیخ حسینہ کی جماعت میدان سے باہر ہے، جبکہ جماعت اسلامی اور بی این پی  کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔ تقریباً 12 کروڑ ووٹر اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

بنگلہ دیش کی عبوری یونس حکومت نے گزشتہ سال جولائی میں شیخ حسینہ کے خلاف جولائی میں ہونے والی بغاوت کے مظاہرین کے خلاف دائر تمام دیوانی اور فوجداری مقدمات کو واپس لینے کا آرڈیننس جاری کیا ہے۔ یہ اقدام آئندہ الیکشن سے قبل سیاسی طورپر اہم ہے۔

پرتھوم آلو میڈیا آؤٹ لیٹ کے مطابق، ڈھاکہ ساؤتھ سٹی کے بی این پی کنوینر اور خالدہ ضیاء کے انتخابی کوآرڈینیٹر منشی رفیق الاسلام عالم (جو مجنوں کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں) نے بھی اسی حلقے سے بی این پی امیدوار کے طور پر اپنا نامزدگی فارم داخل کیا ہے۔

اس کا اعلان بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ اور نوبل انعام یافتہ ماہرِ معیشت پروفیسر محمد یونس نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں کیا ہے۔