Bharat Express DD Free Dish

Bangladesh PM Tarique Rahman Swearing in Ceremony: کیا طارق رحمان کی حلف برداری تقریب میں جائیں گے وزیراعظم مودی؟ ڈھاکہ سے آیا دعوت نامہ، جانیے کہاں پھنسا معاملہ!

ڈھاکہ میں 17 فروری کو ہونے والی تاریخی حلف برداری تقریب کے لیے وزیراعظم مودی کو مدعو کیا گیا ہے۔ تاہم اسی دن فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ان کی اہم دوطرفہ ملاقات اور ’اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ میں مصروفیات کے باعث ان کا جانا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد نئی حکومت کی حلف برداری کی تیاریاں تیز ہو گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں بنگلہ دیش کے متوقع اگلے وزیراعظم طارق رحمان کی حلف برداری تقریب کے لیے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو بھی دعوت نامہ بھیجا گیا ہے۔ ڈھاکہ سے یہ سرکاری دعوت ہفتہ کی دیر رات بھارتی حکام کو موصول ہوئی۔17 فروری کو منعقد ہونے والی اس تقریب میں دنیا بھر کی کئی اہم شخصیات کو مدعو کیا گیا ہے، لیکن کیا وزیراعظم مودی اس تقریب میں شرکت کریں گے؟ فی الحال اس کے امکانات کافی کم دکھائی دے رہے ہیں۔

پی ایم مودی کا ڈھاکہ جانا مشکل کیوں؟

ایک رپورٹ کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی کے بنگلہ دیش جانے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ بھارت میں اسی دن ہونے والا نہایت اہم پروگرام ہے۔ دراصل 17 فروری کو ہی وزیرِاعظم مودی اور فرانس کے صدر ایمانوئیل میکرون کے درمیان ایک اہم دوطرفہ ملاقات طے ہے۔

صدر میکرون اگلے ہفتے بھارت میں منعقد ہونے والے ’اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ میں شرکت کے لیے آ رہے ہیں۔ اس سمٹ کو اب تک کا سب سے بڑا ایڈیشن قرار دیا جا رہا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر تفصیلی گفتگو ہوگی۔ صدر میکرون کی میزبانی اور دوطرفہ مذاکرات کی مصروفیات کے باعث وزیرِاعظم مودی کا اسی دن ڈھاکہ جانا ممکن نظر نہیں آتا۔

تو بھارت کی طرف سے کون ہوگا شریک؟

اب سوال یہ ہے کہ اگر وزیراعظم شرکت نہیں کرتے تو بھارت کی نمائندگی کون کرے گا؟ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت طارق رحمان کی حلف برداری تقریب میں کسی سینئر نمائندے کو بھیج سکتی ہے۔ قیاس آرائیاں ہیں کہ اس ذمہ داری کے لیے نائب صدر یا وزیرخارجہ کے نام پر مہر لگ سکتی ہے۔ سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت اس وقت بنگلہ دیش کی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔ بھارت چاہتا ہے کہ پڑوسی ملک کے ساتھ نئے تعلقات کی شروعات جلدبازی میں نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر اور محتاط انداز میں کی جائے۔

چین اور ترکی کو بھی دعوت

بنگلہ دیش اس تقریب کے ذریعے اپنی نئی خارجہ پالیسی کی جھلک بھی پیش کرنا چاہتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس نے سارک کے بیشتر رکن ممالک کے علاوہ چین، ملائیشیا، سعودی عرب اور ترکی جیسے قریبی ممالک کے سربراہان کو بھی مدعو کیا ہے۔ ایسے میں ڈھاکہ کا یہ پلیٹ فارم آنے والے دنوں میں جنوبی ایشیا کی سیاست کے لیے خاصا اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read