بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کی واپسی کے اعلان کے بعد ملک کی سیاست میں ہلچل تیزہوگئی ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی قیادت والی حکومت نے صدرمحمد شہاب الدین سے استعفیٰ دینے کے لیے کہا ہے۔ صدرکے دفترکے ذرائع کے حوالے سے شائع رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت نے صدرکواگست تک عہدہ چھوڑنے کی مہلت دی ہے۔ گرچہ صدرکی آئینی مدت 2028 تک ہے، لیکن انہوں نے ابھی تک استعفیٰ دینے یا نہ دینے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، بی این پی حکومت کوخدشہ ہے کہ اگرشیخ حسینہ بنگلہ دیش واپس آتی ہیں توصدرآئینی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سیاسی صورت حال پراثراندازہوسکتے ہیں۔ محمد شہاب الدین کوشیخ حسینہ کا قریبی سمجھا جاتا ہے اورانہیں 2023 میں انہی کی حکومت نے صدرمقررکیا تھا۔ اگست 2024 میں بنگلہ دیش میں بغاوت اوراقتدارکی تبدیلی کے بعد شیخ حسینہ ڈھاکہ چھوڑکردہلی آ گئی تھیں۔
بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی پارٹی کو ملی کامیابی
اس کے علاوہ شیخ حسینہ کی سیاسی پارٹی پرپابندی عائد کردی گئی۔ رواں سال فروری میں ہونے والے عام انتخابات میں طارق رحمان کی پارٹی کوکامیابی ملی، جس کے بعد نئی حکومت قائم ہوئی۔ اب شیخ حسینہ نے دوبارہ ڈھاکہ واپس آنے کا اعلان کیا ہے۔ 79 سالہ بنگلہ دیشی لیڈرنے کہا ہے کہ ان کی سیاسی جدوجہد ختم نہیں ہوئی۔ ان کے اس بیان کے بعد بنگلہ دیش میں سیاسی سرگرمیاں مزید تیزہوگئی ہیں۔
شیخ حسینہ کے خلاف 600 سے زائد مقدمات درج
میڈیا رپورٹس کے مطابق، شیخ حسینہ کے خلاف 600 سے زائد مقدمات درج ہیں اورمتعدد مقدمات میں انہیں سزائے موت سنائی جا چکی ہے، تاہم ان کی واپسی کے اعلان نے حکومت کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب، حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ صدراپنی خراب صحت کا حوالہ دیتے ہوئے عہدہ چھوڑ دیں۔ حال ہی میں لندن میں محمد شہاب الدین کے دل کا آپریشن ہوا تھا اوروہ کچھ عرصے سے علیل بتائے جا رہے ہیں۔ تاہم اس معاملے پرابھی تک صدریا حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
