نئی دہلی :بالی وڈ کے مقبول جوڑے رشمیکا مندانا اور وجے دیوراکونڈا کی شادی کے لیے مداح بے حد پرجوش ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس شادی کو لے کر زبردست چرچا ہے اور ہر چھوٹی بڑی تفصیل کے لیے شائقین بے قرار ہیں۔ مداح جاننا چاہتے ہیں کہ شادی کہاں ہو گی، کون مہمان مدعو ہوں گے اور جوڑے کے لباس کس ڈیزائنر کے ہاتھوں تیار ہوں گے۔ رپورٹس کے مطابق یہ شادی 26 فروری کو ہونے والی ہے، اور اسی دوران ایک اہم اپ ڈیٹ بھی سامنے آئی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نیٹ فلکس نے جوڑے کو ان کی شادی کے خصوصی اسٹریمنگ رائٹس کے لیے 60 کروڑ روپے کا آفر دیا ہے۔ یہ پیشکش اس مقصد کے لیے تھی کہ جو مداح شادی کے لمحات براہ راست دیکھنا چاہتے ہیں، وہ یہ موقع حاصل کر سکیں۔ شادی ایک لگژری مقام پر ہونے جا رہی ہے، اور نیٹ فلکس چاہتا تھا کہ یہ تقریب دنیا بھر کے مداحوں تک پہنچے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ رشمیکا اور وجے نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جوڑے نے گزشتہ کچھ تنازعات کے پیش نظر اپنی شادی کو مکمل طور پر نجی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔
اب تک رشمیکا اور وجے نے اس معاملے پر کوئی آفیشل بیان نہیں دیا ہے۔ حال ہی میں رشمیکا کو ایئرپورٹ پر دیکھا گیا، اور شادی کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر وہ شرما گئی۔ اس جوڑے کی محبت کی کہانی 2018 سے میڈیا میں گردش کر رہی ہے اور اب ان کا تعلق تقریباً آٹھ سال پر محیط ہے، مگر دونوں نے کبھی کھل کر اس بارے میں بات نہیں کی۔
مداحوں کی دلچسپی اور جوش کو دیکھتے ہوئے، شادی کے نجی ہونے کا فیصلہ جوڑے کی حفاظت اور ذاتی زندگی کی ترجیح کے طور پر لیا گیا ہے۔ شادی کی تیاریاں لگژری انداز میں کی جا رہی ہیں اور جوڑے نے یہ یقینی بنایا ہے کہ یہ لمحے صرف ان کے اور قریبی افراد کے لیے ہوں۔ اس فیصلے نے شائقین کے تجسس کو بڑھا دیا ہے، لیکن جوڑے کی پرائیویسی اور سکون کی حفاظت ان کے لیے سب سے اہم ہے۔اس موقع پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر کافی قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، مگر رشمیکا اور وجے کی خاموشی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ شادی کی ہر تفصیل عین وقت پر مداحوں کے سامنے آئے گی۔ یہ شادی نہ صرف ان کے مداحوں کے لیے بلکہ بالی وڈ کے شائقین کے لیے بھی ایک سنہری لمحہ ثابت ہونے والی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



