Bharat Express DD Free Dish

Rahmatullah




Bharat Express News Network


سری لنکن درخواست گزار کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ وہ سری لنکا ئی  تمل  ہے جو یہاں ویزا پر آیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کی جان کو ان کے ملک میں خطرہ ہے۔ درخواست گزار تقریباً تین سال سے بغیر کسی ملک بدری کی کارروائی کے گھر میں نظر بند ہے۔

اگرچہ ہندوستان نے خلائی شعبے میں قابل ذکر ترقی کی ہے، اس کی سیٹلائٹ رینج اب بھی امریکہ اور چین سے کافی چھوٹی ہے۔ حکومت نے اگلے دس سالوں میں 52 نئے سیٹلائٹس لانچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

آپریشن سندور نے ظاہر کیا کہ جدید جنگ اب روایتی ہتھیاروں یا بڑے پیمانے پر فوج کے بجائے ٹیکنالوجی، درست ہتھیاروں، اور معلومات کے انتظام پر منحصر ہے۔ ڈرونز، مصنوعی ذہانت، اور سائبر وارفیئر نے جنگ کے میدان کو بدل دیا ہے۔

بھارت کی اس پالیسی کی جڑیں اس کے وسیع تر سفارتی اور فوجی اہداف میں پیوست ہیں۔ بھارت جنگ بندی کو ایک ایسے آلے کے طور پر دیکھتا ہے جو ایل او سی پر کشیدگی کو کم کرتا ہے، جس سے وہ اپنی توجہ اندرونی ترقی، اقتصادی ترقی، اور دیگر عالمی چیلنجز پر مرکوز کر سکتا ہے۔

یہ کثیرالجماعتی وفود نہ صرف پاکستان کے اقدامات کے خلاف بھارت کے موقف کو مضبوط کریں گے بلکہ عالمی برادری کو یہ بھی دکھائیں گے کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے۔

ذرائع کے مطابق  بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (بی سی سی آئی) نے زبانی طور پر ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کو مطلع کیا ہے کہ وہ آئندہ مینز ایشیا کپ 2025 سے دستبردار ہو رہا ہے اور اس کی میزبانی نہیں کرے گا۔

بھارت نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کا آپریشن سندھور کے ذریعے جواب دیا۔ جس دوران  پاکستان اور پی او کے میں واقع دہشت گردوں کے 9 ٹھکانوں کو تباہ کر دیا تھا۔ جواب میں پاکستان نے جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے کئی شہروں پر حملے کرنے کی کوشش کی۔

بی ایس پی کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں مایاوتی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پارٹی کے لوگوں کی رضامندی سے آکاش آنند کو پارٹی کا اہم قومی رابطہ کار بنایا گیا ہے اور انہیں ملک میں پارٹی کے مستقبل کے پروگرام بھی سونپے گئے ہیں۔

اس سانحے نے حیدرآباد کے پرانے شہر میں عمارتوں کی حفاظت اور فائر سیفٹی کے معیارات پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پرانی عمارات میں ناقص وائرنگ اور ناکافی فائر سیفٹی اقدامات اس طرح کے حادثات کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

جاوید اختر سماجی و سیاسی مسائل پر اپنے واضح خیالات اور واضح رائے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق عوامی زندگی میں سرگرم شخص کو نہ صرف حمایت بلکہ تنقید کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔جاوید اختر مارچ 2010 سے مارچ 2016 تک راجیہ سبھا کے نامزد رکن رہے ہیں۔