Nisar Ahmad
Bharat Express News Network
مذہبی شناخت سے پہلے قومی سلامتی اہم… راجستھان ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، کارروائی کے لئے کمیٹی تشکیل کرنے کی ہدایت
مرکزی وزارت داخلہ کی ہدایت پر سیکورٹی ایجنسیوں نے بھارت-پاکستان سرحد سے متصل علاقوں کا سروے کیا تھا۔ سروے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ گزشتہ چند برسوں میں ضلع مجسٹریٹ کی منظوری کے بغیر سرحد سے 50 کلو میٹر کے دائرے میں متعدد مدارس، مساجد، درگاہیں اور دیگر ڈھانچے تعمیر کئے گئے ہیں۔
Parliament Monsoon Session 2026: ’’بی جے پی آئین میں چالاکی سے ترمیم …‘‘، حد بندی بل کی مخالفت کرے گی کانگریس، ایک گھنٹے کی میٹنگ کے بعد اعلان
کانگریس نے آل پارٹی میٹنگ کے طریقہ کارپربھی سوال اٹھائے۔ سید ناصرحسین اورجے رام رمیش نے کہا کہ یہ میٹنگ اب صرف رسمی بن کررہ گئی ہے۔ ان کے مطابق، وہاں کئی لیڈر اپنی بات رکھتے ہیں، لیکن آخرمیں فیصلے کچھ ہی لوگ لیتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اپوزیشن کی رائے کوسنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔
Lakhimpur Kheri Case: سابق مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے کو کلین چٹ، پولیس نے سپریم کورٹ سے کہا- کوئی ثبوت نہیں
سپریم کورٹ نے پولیس کی اسٹیٹس رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے نوٹ کیا کہ اس معاملے میں امن دیپ سنگھ کے خلاف چارج شیٹ داخل کی جا چکی ہے اور متعلقہ عدالت نے اس کا نوٹس بھی لے لیا ہے۔ تاہم اجے مشرا ٹینی، آشیش مشرا اور دیگر افراد کے مبینہ کردار کے حوالے سے تفتیشی ایجنسی اس نتیجے پر پہنچی کہ ان کے خلاف شواہد موجود نہیں ہیں۔
کیا آرجے ڈی کے اراکین پارلیمنٹ بھی کریں گے بغاوت؟ ابھے کشواہا نے وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری سے کی ملاقات، سیاسی قیاس آرائیاں تیز
بہار کی اورنگ آباد سیٹ سے آرجے ڈی کے رکن پارلیمنٹ ابھے کشواہا نے ریاست کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے بعد سے بہار میں سیاسی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔
Mamata Banerjee attacks on BJP: ’’بنگال میں بی جے پی غداروں کے سہارے…میں اپنا ضمیرنہیں بیچتی‘‘ ٹی ایم سی چھوڑنے والوں پرممتا بنرجی کا بڑا حملہ
سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی اورٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی نے کہا کہ ہمیں زبردستی ہرایا گیا۔ ایک دن یہ ثابت ہوجائے گا۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ اگرمیں نے سمجھوتہ کیا ہوتا تو ہمیں یہ سب نہیں جھیلنا پڑتا، لیکن میں اپنا ضمیر نہیں بیچتی۔ انہوں نے کہا کہ جب بی جے پی مرکز کے اقتدار سے باہر ہوگی تو یہی خوف اس کے زوال کا سبب بنے گا۔
Maharashtra Politics: انڈیا الائنس چھوڑنے سے متعلق سپریا سولے کا بڑا اعلان، این سی پی-ایس پی کی رکن پارلیمنٹ نے حد بندی بل سے متعلق کہی یہ بڑی بات
شرد پوار کی بیٹی سپریا سولے نے این ڈی اے میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں کو پوری طرح سے خارج کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی انڈیا الائنس کے ساتھ مل کرہی بڑے سیاسی فیصلے لے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حد بندی سے متعلق ابھی تک مرکزی حکومت کی طرف سے کوئی باضابطہ بل یا تجویز سامنے نہیں آئی ہے۔
Mohammad Ali Jauhar University: اعظم خان کے لئے بڑا جھٹکا، محمد علی جوہر یونیورسٹی پر چلے گا بلڈوزر، رام پور ڈیولیمنٹ اتھارٹی نے جاری کیا حکم
رام پورکے ضلع مجسٹریٹ اجے کماردویدی نے بتایا کہ جوہریونیورسٹی کو پہلے نوٹس جاری کیا گیا تھا، جس کے جواب میں انتظامیہ نے تحریری وضاحت بھی پیش کی۔ بعد ازاں تفصیلی سماعت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ یونیورسٹی کی مجموعی 40 عمارتوں میں سے صرف دوعمارتوں کے نقشے منظورشدہ ہیں، جبکہ باقی 38 عمارتیں بغیرمنظوری کے تعمیر کی گئی ہیں۔ اسی بنیاد پرانہیں غیرقانونی قراردیتے ہوئے انہدام کا حکم صادرکیا گیا۔
Virat Kohli and Rohit Sharma Flop: ٹوٹ گئے کروڑوں دل! انگلینڈ میں وراٹ کوہلی اور روہت شرما فلاپ، پہلے ونڈے میں خاموش رہا بلّا
انگلینڈ کے خلاف پہلے ونڈے میں روہت شرما اور وراٹ کوہلی پوری طرح سے فلاپ رہے۔ دونوں عظیم بلے بازوں کا بلّا خاموش نظر آیا۔ روہت شرما 21 گیندوں میں صرف 11 رن بناکر آوٹ ہوئے۔ اس دوران ان کے بلّے سے ایک چوکا نکلا۔ نمبر-3 پر اترے وراٹ کوہلی 6 گیندوں میں صرف 5 رن ہی بناسکے۔
Ankit Sharma Murder Case: انکت شرما قتل کیس میں 6 مسلمان باعزت بری، اہل خانہ میں خوشی، طویل قانونی پیروی کے لئے جمعیۃ علماء ہند کا شکریہ ادا کیا
دہلی فسادات کو 6 سال سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود جمعیۃ علماء ہند آج بھی 200 ٹرائل مقدمات میں قانونی پیروی کر رہی ہے، جبکہ جمعیۃ کی قانونی جدوجہد کے نتیجے میں ہنوز 100 سے زائد افراد باعزت بری ہوچکے ہیں۔ ان مقدمات کی نگرانی جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا نیاز احمد فاروقی کی قیادت میں وکلاء کی ایک ٹیم کر رہی ہے۔
سابق آئی اے ایس افسر نیاز خان کے بیان مولانا محمود مدنی کا سخت ردعمل، کہا- ’’مسلمانوں کواپنی شناخت چھپانے کا مشورہ، ہجومی تشدد کا حل نہیں‘‘
مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہمارے پاس تحقیق پر مبنی رپورٹ موجود ہے، جس میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران 38 نمایاں واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان میں سے 83 فیصد ایسے تھے، جن میں متاثرہ افراد نے عام لباس پہن رکھا تھا اوران کی ظاہری وضع قطع سے کوئی نمایاں اسلامی شناخت ظاہر نہیں ہوتی تھی۔





