Bharat Express DD Free Dish

Nisar Ahmad




Bharat Express News Network


تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے سلمان خورشید نے کتاب کی بھرپور ستائش کی اور کشمیر کے ذاتی تجربات کو ادبی اندازمیں پیش کرنے پر مصنف کی کوششوں کوسراہا۔ انہوں نے کہا کہ سفرنامہ نگاری یادوں، تجربات اور ثقافتی مشاہدات کومحفوظ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ جسٹس اقبال انصاری نے بھی اس موقع پرکتاب کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہارکیا اور اس کے مندرجات کو سراہا۔ انہوں نے بالخصوص کشمیر کی قدرتی خوبصورتی، ثقافتی دولت اور انسانی پہلوؤں کو کتاب میں نمایاں جگہ دینے کی تعریف کی۔

عام آدمی پارٹی کی قومی ترجمان پرینکا ککڑکانگریس میں شامل ہوگئی ہیں۔ انہوں نے عام آدمی پارٹی کے پرانے وعدوں سے انحراف پرسوال اٹھائے اورراہل گاندھی کی ایمانداری اور’ووٹ چوری‘ جیسے موضوعات اٹھانے پر تعریف کی۔

پاکستان کے خلاف کامیابی کے ساتھ ہی بھارت نے ایشین گیمز میں اپنا 19واں گولڈ میڈل جیت لیا۔ اس سے قبل بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم نے بھی فائنل میں سری لنکا کو شکست دے کر گولڈ میڈل حاصل کیا تھا۔ یوں ایشین گیمز میں کرکٹ کے دونوں گولڈ میڈل بھارت کی جھولی میں آئے۔ پاکستان کے خلاف مینز کرکٹ ٹیم کی کامیابی کے بعد بھارت کے مجموعی تمغوں کی تعداد 81 ہو گئی ہے۔

پروگرام کے آغاز میں اکادمی کے سکریٹری لیکھ راج نے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے بشیر بدر کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے چند اشعار بھی ناظرین کو پڑھ کر سنائے۔ انھوں نے کہا کہ بشیر بدر کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اردو ادب کے لیے ان کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ اردو زبان کی معنویت پر روشنی ڈالتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اردو میں اتنی گہرائی ہے کہ اس کی تہہ میں اتر کر ہی اس کی حقیقی معنویت کو سمجھا جا سکتا ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے اسٹوڈنٹس یونین کی بحالی کے مطالبے سے متعلق کیمپس میں جاری طلباء کے دھرنے اوربھوک ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ طلباء کے اس مطالبے کو فوری طورپرتسلیم کرتے ہوئے یونین کے انتخابات کرانے کی کارروائی شروع کی جائے۔

تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر محمد اکمل نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبۂ سماجیات کی صدر پروفیسر عذرا عابدی کا خیرمقدم کیا اور موضوع کی اہمیت پرقدرے تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس موقع پر پروفیسر عذرا عابدی نے توسیعی خطبہ پیش کرتے ہوئے ترقی پسند اردو افسانے کی روایت اور اس میں خواتین افسانہ نگاروں کے کردار کا تفصیلی جائزہ لیا۔

’کلچرل وسٹا– آپ اورہم‘ کے زیرِ اہتمام عظیم شاعر بشیر بدر کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ پروگرام کا تعارف ممتاز ناظم مشاعرہ معین شاداب نے پیش کیا۔ جبکہ عمراظہار نے ناظمِ مشاعرہ کی ذمہ داری نبھائی۔ پروگرام کی کنوینر زرین صدیقی نے مہمانوں کا استقبال کیا۔

پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی موجودہ اولڈ قیادت ناکام ہوچکی ہے اور اب اس کی باگ ڈور'مسلم جین زی' کے ہاتھوں میں سونپ دینی چاہئے کیونکہ جمہوریت میں اپنے مقاصد کے حصول کے لئے سڑکوں پر اترنے اور جیل جانے کا سبق یاد رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے، جو ہمارے موجودہ جید علماء کرام بالکل بھول چکے ہیں۔ بس انھیں یاد ہے تو اپنے آبا واجداد کی عظیم قربانیاں جس کا وہ باربار حوالہ دے کراپنے آپ کو مطمئن کرلیتے ہیں۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا محمود اسعد مدنی نے مجلس عاملہ کے فیصلوں پرر وشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سرکارکی جانب سے یک طرفہ کارروائیوں اورمتعدد معاملات میں انتظامیہ کے جانبدارانہ رویے کے باعث متاثرین کے لیے عدالتی ذرائع سے مؤثرقانونی چارہ جوئی کے مواقع بھی محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ اگرکسی ایک کمیونٹی کے خلاف یک طرفہ کارروائیاں ہوں اورانہیں انتظامی سطح پرسرپرستی حاصل ہوتویہ صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے۔

یومِ اساتذہ کی مناسبت سے اظہارِخیال کرتے ہوئے پروفیسرخالد محمود نے کہا کہ یہ دن اساتذہ کی علمی و تعلیمی خدمات کے اعتراف اور ان کے احترام کے طور پر منایا جاتا ہے۔ چونکہ 5 ستمبر سابق صدرِجمہوریہ اور ممتاز ماہرِتعلیم ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن کا یومِ پیدائش ہے، اسی مناسبت سے یہ دن یومِ اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں چاہیے کہ اپنے اساتذہ کی قدرکریں، ان کی دی ہوئی رہنمائی اور راستے پر چلیں اور اپنی زندگی کی ہرکامیابی میں اپنے اساتذہ کو یاد رکھیں۔