Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے حکام کو یہ ہدایت بھی دی ہے کہ جہاں ممکن ہو ان کے قافلے میں الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو شامل کیا جائے۔ تاہم اس مقصد کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری نہیں کی جائے گی، بلکہ موجودہ وسائل ہی استعمال کیے جائیں گے۔

پرتیک یادو کو ’’فٹ انڈیا‘‘ کا ابتدائی سیاسی آئیکن بھی کہا جاتا تھا۔ ان کے پاس لکھنؤ کا سب سے بڑا اور جدید سہولیات سے آراستہ جم تھا۔  تعلیمی دور میں ایک وقت ان کا وزن 100 کلوگرام سے زائد تھا، لیکن انہوں نے اپنی محنت سے نہ صرف وزن کم کیا بلکہ ایک مضبوط اور متاثر کن جسمانی ساخت حاصل کی۔

وزیراعظم نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ آج کے دور میں حب الوطنی صرف سرحدوں پر قربانی دینے تک محدود نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنا بھی قومی خدمت ہے۔ انہوں نے عوام سے پٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں کمی لانے، پبلک ٹرانسپورٹ، کار پولنگ اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے پر زور دیا تھا۔

پرتیک یادو کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی میں موجود ہے۔ اطلاعات کے مطابق پوسٹ مارٹم کے لیے ڈاکٹروں کے پینل میں ڈاکٹر موسمی اور ڈاکٹر شیولی کے نام طے کیے گئے ہیں، جبکہ ایک سینئر ڈاکٹر پورے عمل کی نگرانی کریں گے۔ پوسٹ مارٹم سے پہلے ویڈیوگرافی کی رسمی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ حکام کے مطابق پورے پوسٹ مارٹم کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی اور چار ڈاکٹروں کی ٹیم اس عمل میں شامل ہوگی۔

ٹی وی کے حکومت کو کانگریس، سی پی آئی، سی پی ایم، وی سی کے اور آئی یو ایم ایل کی حمایت حاصل ہے۔ آج کا فلور ٹیسٹ صرف سی جوزف وجے کے لیے اکثریت ثابت کرنے کا امتحان نہیں بلکہ اے آئی اے ڈی ایم کے کے سیاسی اتحاد اور داخلی یکجہتی کے لیے بھی اہم مانا جا رہا ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق موت کی وجہ ہارٹ اٹیک یا برین ہیمریج بتائی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق 38 سالہ پرتیک یادو کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال لایا گیا، اسپتال پہنچتے ہی ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ پوسٹ مارٹم کے لیے چار ڈاکٹروں کا پینل تشکیل دیا گیا ہے۔

درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عالمی فٹبال ٹورنامنٹ کو عوامی اور مفت پلیٹ فارمز، خصوصاً دوردرشن اور ڈی ڈی اسپورٹس پر نشر کیا جائے تاکہ ملک کے تمام شائقین اس سے استفادہ کر سکیں۔ درخواست گزار کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ملک کے کروڑوں فٹبال شائقین دنیا کے سب سے بڑے کھیل مقابلوں میں سے ایک دیکھنے سے محروم ہو سکتے ہیں۔

نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے مطابق 3 مئی کو منعقد ہونے والے نیٹ یو جی 2026 امتحان میں تقریباً 22.79 لاکھ طلبہ شریک ہوئے تھے۔ یہ امتحان بھارت کے 551 شہروں اور بیرون ملک 14 شہروں میں قائم 5400 سے زائد مراکز پر منعقد کیا گیا تھا۔

پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی جانب سے نیٹ 2026 کو منسوخ کر کے دوبارہ امتحان کرانے اور معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرانے کا فیصلہ در اصل حکومت کی سنگین کوتاہیوں کا اعتراف ہے۔ اگرچہ امتحان کے نظام کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے یہ فیصلہ ضروری تھا، تاہم اس سے لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے ہیں۔

طلبہ تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ مرکزی ایجنسیاں اس معاملے کی جانچ کریں اور اس میں شامل افراد، امتحانی مافیا اور معاونت کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی، جانچ مکمل ہونے تک این ٹی اے پورے معاملے میں شفافیت برقرار رکھتے ہوئے طلبہ اور والدین کے سامنے تمام حقائق واضح کرے۔