Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


لوک سبھا میں آئینی ترمیمی بل پر ہنگامہ۔ یہ تینوں بل ملک کے آئینی ڈھانچے اور وفاقی نظام پر اثرانداز ہونے کے باعث اہم سمجھے جا رہے ہیں۔ اپوزیشن ارکان نے بل کو جمہوری اور آئینی اصولوں کے خلاف قرار دیا اور سخت مخالفت کا اعلان کیا۔ اب یہ تینوں بل جے پی سی کے زیر غور آئیں گے، جہاں ممکنہ ترامیم یا سفارشات دی جا سکتی ہیں۔

پڑوسی ملک پرتگال میں بھی آگ کی صورتحال تشویشناک ہے۔ وہاں 3,700 فائر فائٹرز چار بڑے مقامات پر لگی آگ بجھانے میں لگے ہوئے ہیں۔ ان جنگلاتی آگ سے 2,350 مربع کلومیٹر رقبہ متاثر ہوا اور 2 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جو اس مدت کے لیے گزشتہ دو دہائیوں کے اوسط نقصان سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

جے پی نڈا نے اس معاملے پر راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے ایک ویڈیو شیئر کیا۔ اس کے کیپشن میں انہوں نے لکھا ’’ کھڑا ہوں آج بھی وہیں...جہاں میرا جھوٹ پکڑایا، سچ سامنے آیا اور میں نے اپنا مذاق بنوایا...کھڑا ہوں آج بھی وہیں۔‘‘ نڈا نے جو ویڈیو جاری کیا وہ اسی خاتون کا ہے جس نے راہل گاندھی اور تیجسوی یادو کے سامنے چھ افراد کے ووٹ کاٹنے کی شکایت کی تھی۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اعلان کیا ہے کہ مستقبل کی فلسطینی ریاست کے لیے ایک عبوری آئین تیار کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ماہرین قانون، سیاسی و سماجی شخصیات اور سول سوسائٹی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

غور طلب یہ ہے کہ صدر ٹرمپ واقعی پوسٹل بیلٹ کے خاتمے کے لیے صدارتی حکم نامہ جاری کر پاتے ہیں یا یہ اعلان صرف انتخابی سیاست کا حصہ ثابت ہوتا ہے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ اس بیان نے امریکی سیاست اور جمہوریت کے مستقبل پر کئی نئے سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

NCPCR  نے اپنی عرضی میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا مسلم پرسنل لاء کے تحت کم عمری میں شادی کی اجازت ’’چائلڈ میرج ایکٹ 2006‘‘ پر فوقیت رکھتی ہے یا نہیں۔ ہائی کورٹ نے اپنے 2022 کے فیصلے میں کہا تھا کہ بلوغت کے بعد (تقریباً 15 سال کی عمر میں) مسلم لڑکی نکاح کرنے کی اہل ہے۔

’’جب ہم سب نے قومی ترانہ یکجا ہوکر گایا اور ہال میں ہماری آوازیں گونجیں تو مجھے ایک گہرا احساسِ حب الوطنی اور اتحاد محسوس ہوا۔‘‘ یہ لمحہ زیرش اور دیگر طلبہ کے لیے ناقابل فراموش تجربہ بن گیا، جو انہیں ملک و قوم کی خدمت اور مستقبل میں بہترین کارکردگی دکھانے کی ترغیب دیتا رہے گا۔

’’وزیراعظم کی قیادت میں دنیا ایک قدیم تہذیب کو دیکھ رہی ہے جو اپنی جڑوں کو چھوڑے بغیر جدید طاقت میں تبدیل ہو رہی ہے۔ یہی وژن ہندوستان کو عالمی سطح پر نئی پہچان اور ترقی کی نئی بلندیوں تک لے جا رہا ہے۔‘‘

ہائی کورٹ نے اگرچہ محمد گلریز کی شمولیت پر عدم اطمینان ظاہر کیا تھا، لیکن تقرری کو درست قرار دیا تھا۔ اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سینئر ایڈووکیٹ کپل سبل نے عدالت عظمیٰ میں دلائل دیے کہ اگر شوہر ووٹنگ اور اجلاس میں شامل نہ ہوتے تو پروفیسر نعیمہ خاتون کا نام پانچ رکنی پینل میں شامل ہی نہیں ہوتا۔

مہاراجہ بیر بکرم کشور مانکیہ بہادر جی کو تریپورہ کا ’’جدید معمار‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان کی دوراندیش پالیسیوں اور اصلاحات نے نہ صرف تعلیم اور انفراسٹرکچر کو نئی راہ دکھائی بلکہ عوامی فلاح و بہبود کے لیے بھی سنگ میل قائم کیا۔ آج مرکزی اور ریاستی حکومتیں ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔