Urdu Conclave 2026

Habiburrahman




Bharat Express News Network


اڈانی ڈیجیٹل لیبز ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کا ایک رہنما ادارہ ہے، جو اختراعی ٹیکنالوجی اور کسٹمر سینٹرک حل کے ذریعے ٹریول اور ایئرپورٹ کے تجربے کو بہتر بناتا ہے۔ اپنی تازہ ترین پہل کے ساتھ یہ ادارہ ایئرپورٹ مہمان نوازی میں نئے معیارات قائم کر رہا ہے۔

داغ دہلوی اردو شاعری کا ایک ایسا درخشاں نام ہیں جنہوں نے سادہ اور سہل زبان میں گہری باتیں کہہ کر اردو ادب کے شعری آہنگ کو ایک نیا رنگ دیا۔ ان کی شاعری نہ صرف ان کے دور میں مقبول تھی بلکہ آج بھی اپنی تازگی اور تاثیر کے ساتھ زندہ ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت میں روحانیت اور سائنس، تجسس اور تخلیقیت کا ملاپ صدیوں سے فلکیات کے میدان میں نمایاں ہے۔ 64 ممالک کے 300 سے زیادہ چمکتے ستاروں سے جڑنا ایک خوشی کی بات ہے۔ میں آپ سب کو دل سے خوش آمدید کہتا ہوں۔

میر تقی میر اپنے اشعار کے ذریعے آج بھی زندہ ہیں۔ اردو شاعری کا کوئی معتبر ذکر میر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنے وقت کے دکھ، محبت اور انسانی تجربے کو ایسی سچائی سے بیان کیا کہ صدیوں بعد بھی قاری ان کے کلام میں اپنا عکس دیکھتا ہے۔

بھارت کی AI کہانی ابھی مکمل نہیں ہوئی، مگر اسے ہر روز ایسے ہی رہنما تشکیل دے رہے ہیں جو درست سوالات پوچھ رہے ہیں، مقصد کے ساتھ تخلیق کر رہے ہیں اور ایسے انداز میں قیادت کر رہے ہیں جو واقعی معنی رکھتی ہے۔

یہ منصوبے ملک میں سیمی کنڈکٹر صنعت کو عالمی معیار پر لے جانے میں مدد کریں گے۔ ان میں پہلا تجارتی کمپاؤنڈ فیب اور جدید گلاس پر مبنی سبسٹریٹ پیکیجنگ یونٹ شامل ہیں جو ملک میں چپ ڈیزائن صلاحیت کو مضبوط بنائیں گے۔

امریکہ دورے کے دوران عاصم منیر نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر بھارت نے دریائے سندھ پر ڈیم بنایا تو پاکستان اپنے پانی کے حقوق کے تحفظ کے لیے ’’ہر قیمت‘‘ ادا کرے گا۔ عاصم منیر نے کشمیر کو پاکستان کی ’’شہ رگ‘‘ قرار دیا تھا اور کہا کہ یہ بھارت کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ ایک ’’غیر حل شدہ بین الاقوامی مسئلہ‘‘ ہے۔

اپوزیشن جماعتیں مسلسل ایس آئی آر کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ اس عمل کے ذریعے ووٹر لسٹ میں جانبدارانہ تبدیلیاں کر کے بی جے پی کو انتخابی فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

گزشتہ روز لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی، کانگریس رہنما پرینکا گاندھی اور انڈیا بلاک کے دیگر اراکین کو بہار میں مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن دفتر تک مارچ کرنے پر دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔

پہلے مرحلے کے بعد اب دوسرے مرحلے میں 476 دیگر RUPP کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ پارٹیاں بھی پچھلے چھ سال میں کسی بھی انتخاب میں حصہ لینے میں ناکام رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ان کے اخراج کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔ کمیشن کے مطابق یہ پورا عمل سیاسی نظام کو غیر فعال یا غیر سنجیدہ پارٹیوں سے پاک کرنے، انتخابی فہرست کو درست رکھنے اور جمہوری عمل کو مؤثر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔