لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بدھ کے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں سیاسی بدامنی جنم لے رہی ہے اور آئندہ ریاستی انتخابات سے قبل یہ مزید بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی بہار، مغربی بنگال اور آسام میں انتخابات ’’چرانے‘‘ کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ راہل گاندھی نے کہا: ’’میں دیکھ رہا ہوں کہ بہار میں آگ بھڑک رہی ہے۔ میں تمام سینئر رہنماؤں کو دعوت دیتا ہوں کہ آ کر یہ آگ دیکھیں کیونکہ یہ روکی نہیں جا سکتی۔ بہار میں چار سال کا بچہ بھی ’ووٹ چور، ووٹ چور‘ کے نعرے لگا رہا ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر، ہریانہ کے انتخابات چرائے اور اب بہار، مغربی بنگال، آسام میں بھی یہی کریں گے۔‘‘
भारत के पूर्व उपराष्ट्रपति आखिर छुपे हुए क्यों हैं? क्यों ऐसी नौबत आ गई कि वो बाहर आ कर एक शब्द भी नहीं बोल सकते?
सोचिए, हम कैसे समय में जी रहे हैं। pic.twitter.com/Gzbkuyu6zE
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) August 20, 2025
تلنگانہ میں سماجی انصاف کا ویژن اور آئین کی اہمیت
راہل گاندھی نے اپنی پارٹی کے رہنما کے سی وینوگوپال کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تلنگانہ کے لیے سماجی انصاف کا ایک واضح وژن تیار کیا اور ریاستی مردم شماری پر بھی کام کیا۔ انہوں نے اس موقع پر آئین کی برتری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وینوگوپال ہمیشہ اپنے ساتھ آئین کی ایک کاپی رکھتے ہیں۔ ’’انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ 52 سال سے اپنی جیب میں آئین رکھتے ہیں کیونکہ کسی بھی قانونی بحث میں آخری فیصلہ آئین ہی دیتا ہے۔‘‘
نئے بل اور پارلیمانی بحران پر تنقید
حکمران جماعت بی جے پی کی جانب سے پیش کردہ نئے بل پر تبصرہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ملک قرون وسطیٰ کے دور کی طرف واپس جا رہا ہے، جب بادشاہ اپنی مرضی سے کسی کو بھی عہدے سے ہٹا دیتا تھا۔ ’’یہاں جمہوریت ہے لیکن منتخب نمائندے کا کوئی تصور باقی نہیں رہا۔ اگر حکمران کو آپ کا چہرہ پسند نہ آئے تو ای ڈی کے ذریعے مقدمہ دائر کروا کے آپ کو 30 دن میں عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے۔‘‘
نائب صدر جمہوریہ کے استعفیٰ پر سوال
راہل گاندھی نے سابق نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ کے اچانک استعفیٰ کو ایک ’’بڑی کہانی‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وہ اچانک کیوں خاموش ہو گئے۔ ’’استعفیٰ کے دن وینوگوپال جی نے مجھے فون کر کے کہا کہ نائب صدر چلے گئے ہیں۔ اس کے پیچھے ایک بڑی کہانی ہے جسے ہر کوئی نہیں جانتا۔ وہ شخص جو راجیہ سبھا میں گرجتا تھا، آج مکمل طور پر خاموش ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


