Bharat Express DD Free Dish

GST Rate Cut: مودی حکومت نے 12 اور 28 فیصد جی ایس ٹی سلیب ختم کر دی، 22 ستمبر سے نئی شرحیں نافذ، روزمرہ استعمال کی 175 اشیاء کے دام کم، اسٹیشنری اور ادویات مکمل طور پر جی ایس ٹی سےمستثنیٰ

ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، کیرالا، پنجاب، تمل ناڈو، تلنگانہ، مغربی بنگال اور کرناٹک سمیت آٹھ اپوزیشن حکومتی ریاستوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر جی ایس ٹی میں اس کمی سے ان کے ریوینیو میں کمی آتی ہے تو مرکز اس کا ازالہ کرے۔

جی ایس ٹی کونسل نے بدھ کے روز ٹیکس ڈھانچے کو سادہ بنانے کی منظوری دے دی، جس کے تحت اب صرف 5 فیصد اور 18 فیصد جی ایس ٹی سلیب رہ جائیں گی۔ 12 اور 28 فیصد کی شرحیں ختم کر دی گئی ہیں جبکہ پرتعیش اور مضر صحت اشیاء پر 40 فیصد کا خصوصی سلیب برقرار رکھا گیا ہے۔ نئی شرحیں 22 ستمبر سے نافذ ہوں گی۔

روزمرہ کی اشیاء سستی، 175 آئٹمز پر ٹیکس میں کمی

وفاقی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کی سربراہی میں ہونے والی جی ایس ٹی کونسل کی میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ 175 روزمرہ استعمال کی اشیاء پر جی ایس ٹی 18 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیا جائے۔ اس میں ٹوتھ پیسٹ، ٹالکم پاؤڈر، شیمپو، پین، پیزا بریڈ، کھاکھرا، چپاتی اور روٹی جیسی اشیاء شامل ہیں۔ اس سے عام صارفین کو براہِ راست فائدہ ہوگا۔

اسٹیشنری، ادویات اور میڈیکل آلات پر مکمل استثنیٰ

نئی شرحوں کے مطابق اسٹیشنری، دوائیں اور میڈیکل آلات پر مکمل طور پر جی ایس ٹی ختم کر دیا گیا ہے۔ ٹی وی، اے سی اور واشنگ مشین جیسی اشیاء پر بھی ٹیکس کم کر کے 28 فیصد سے 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔

کپڑے، جوتے اور ای وی کاریں بھی سستی

کپڑوں اور جوتوں پر جی ایس ٹی 12 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے کے لیے ان پر جی ایس ٹی 28 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔

اپوزیشن ریاستوں کا ریونیو نقصان کی تلافی کا مطالبہ

ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، کیرالا، پنجاب، تمل ناڈو، تلنگانہ، مغربی بنگال اور کرناٹک سمیت آٹھ اپوزیشن حکومتی ریاستوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر جی ایس ٹی میں اس کمی سے ان کے ریوینیو میں کمی آتی ہے تو مرکز اس کا ازالہ کرے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read