Bharat Express DD Free Dish




Bharat Express News Network


اس مضمون کو پڑھیں اور دریافت کریں کہ   امریکہ میں کھیلوں کا تکنیکی نظام کس طرح نئی اختراعات کو کاروباری مواقع، مؤثر شراکت داریوں اور کاروباری ترقی میں تبدیل کرتا ہے۔

وشو مانگلیہ سبھا نے میڈیا نمائندوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 24 جولائی کو امبیڈکر بھون میں ہونے والے اس پروگرام کی کوریج کے لیے ضرور موجود رہیں۔ اسی روز صبح ساڑھے نو بجے وشو یووک کیندر میں اختتامی اجلاس کے آغاز پر میڈیا کے لیے فوٹو سیشن کا بھی انتظام کیا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر تنظیم سال بھر کی مجوزہ سرگرمیوں اور اہم فیصلوں سے میڈیا کو آگاہ کرے گی۔

فریڈم 250 سلَیم ڈنک ایکس پیرئنس کے دوران نئی دہلی میں نوجوان باسکٹ بال کھلاڑیوں نے  این بی اے کے نمائندوں اور باسکٹ بال ہال آف فیم کے رکن ولاڈے ڈیواک سے ملاقات کی جس سے امریکہ۔ ہند کھیل سفارت کاری کی ایک عملی مثال سامنے آئی۔

گلوبل اسپورٹس مینٹورِنگ پروگرام کی سابق طالبہ  وَیدیہی وَیدیا بتاتی ہیں کہ امریکی اسکول، اسپورٹس سائنس، اور پیشہ ورانہ طور پر مددگار نظام کس طرح کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارتے، کھیلوں کی صنعتوں کو فروغ دیتے، اور کھیلوں کے ذریعےسماجی سرگرمیوں کو بھیمتحرک کرتے  ہیں ۔

جس طرح ہمارا ملک ریگستان، پہاڑوں، میدانوں اور میٹروپولیٹن شہروں جیسے جغرافیائی تنوع سے بھرا ہوا ہے، بالکل ویسے ہی یہاں مذہبی، ثقافتی اور لسانی کثرت کی ایک انتہائی امیر اور قدیم وراثت رہی ہے۔

امریکہ کا  مصنوعی ذہانت والا نیا فریم ورک اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پالیسی سازی، جدت طرازی اور شراکت داریاں مل کر کس طرح مصنوعی ذہانت پر مبنی معیشت کے اگلے مرحلے کی  تشکیل کر رہی ہیں۔

کیمپ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرنے والے رضاکاروں کو بھی ان کی محنت، لگن اور خدمات کے اعتراف میں تعریفی اسناد اور یادگاری مومنٹوز پیش کیے گئے۔ رضاکاروں نے اس اعزاز پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ بھی سماجی خدمت جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

امریکہ اور ہندوستان علمی ملکیت کے نظام کو مضبوط بنا  رہے ہیں تاکہ جدّت  کے تحفظ کو یقینی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں میں قابلِ اعتماد تعاون  کوممکن بنایا جاسکے۔

امت شاہ نے اپنے بیان میں ایمرجنسی کا خصوصی ذکر کیا، جسے بھارتی جمہوریت کا ایک سیاہ باب سمجھا جاتا ہے۔ 1975 میں جب ملک میں ایمرجنسی نافذ کی گئی اور آر ایس ایس پر پابندی لگا دی گئی، اس وقت بالاساہب دیورس ہی سنگھ کے سربراہ تھے۔

سر سید احمد خان نے ایک چراغ روشن کیا تھا۔ آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسی چراغ کی روشنی میں آگے بڑھ رہی ہے اور پروفیسر نعیمہ خاتون اس روشنی کو نئی نسل تک پہنچانے والی اہم شخصیات میں شمار کی جا رہی ہیں۔ تاریخ جب اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے کا ذکر کرے گی تو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سفر میں پروفیسر نعیمہ خاتون کا نام ایک ایسے باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے روایت اور جدت کے درمیان ایک خوبصورت پل تعمیر کیا۔