Urdu Conclave 2026

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے بھی اس معاملے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سرحدی علاقوں میں آبادی کے تناسب میں آنے والی تبدیلیوں کو قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا تھا۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے نئی دہلی کے حیدرآباد ہاؤس میں سانے تاکائچی کا خیرمقدم کیا، جہاں دونوں لیڈروں کے درمیان دوطرفہ مذاکرات ہوئے۔ ملاقات سے قبل دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے ایک دوسرے کا استقبال کیا، جبکہ سانے تاکائچی نے بھارت اور جاپان کے قومی پرچموں کے سامنے سر جھکا کر احترام کا اظہار بھی کیا۔

یہ ملاقات 16ویں ہند-جاپان سالانہ سربراہی کانفرنس کے موقع پر ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا اور علاقائی و عالمی امور پر بھی اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔ جاپان کی وزیرِاعظم سانے تاکائچی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا سرکاری دورۂ بھارت ہے،

ارشد وارثی نے بتایا کہ جب ہدایتکار نے انہیں لگاتار سین کرتے دیکھا تو وہ ان کے کام سے بہت متاثر ہوئے اور خوب تعریف کی۔ اسی دوران ہدایتکار نے مذاق میں آج کے نئے اداکاروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نسل کے فنکار عموماً چند قدم چلنے یا تھوڑا سا کام کرنے کے بعد فوراً آرام کے لیے چلے جاتے ہیں۔

ایرانی حکومت نے صرف محبوبہ مفتی ہی نہیں بلکہ کشمیر اور لداخ کی کئی اہم شخصیات کو بھی سفارتی ذرائع کے ذریعے دعوت نامے روانہ کیے ہیں۔ دعوت پانے والوں میں نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ اور شیعہ لیڈر آغا سید روح اللہ مہدی، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے لیڈر عمران انصاری، لداخ کے رکن پارلیمنٹ محمد حنیفہ، معروف شیعہ عالم مسرور عباس انصاری اور آغا سید حسن موسوی الصفوی شامل ہیں

اس واقعے کے بعد سرکاری اسپتالوں کی عمارتوں کے معیار، دیکھ بھال اور حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مریضوں کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اگر بروقت عمارت کی خامیوں کو دور نہ کیا گیا تو آئندہ اس سے بھی بڑا حادثہ پیش آ سکتا ہے۔

ایک بڑی چٹان اچانک سرک کر نیچے کام کرنے والے مزدوروں پر آ گری، جس کے باعث یہ المناک حادثہ پیش آیا۔ادھر کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اس حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ہلاک ہونے والے مزدوروں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

کانگریس نے اپنے آفیشل ایکس ہینڈل پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ 14 اپریل 2026 کو وزیر اعظم نریندر مودی کے افتتاح کردہ اس ایکسپریس وے پر صرف دو ماہ بعد ہی بڑے بڑے گڑھے پڑ گئے ہیں۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ تقریباً 12 ہزار کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے منصوبے میں بدعنوانی اور ناقص تعمیراتی کام کے باعث یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

کرن اڈانی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے "وکست بھارت 2047" کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اس نوعیت کے بڑے صنعتی منصوبے نہایت اہم ہیں۔ ان کے مطابق ترقی یافتہ بھارت کے لیے ترقی یافتہ اڈیشہ ناگزیر ہے،

بھارت اور جاپان کے درمیان اقتصادی تعلقات مسلسل مستحکم ہو رہے ہیں۔ جاپان اس وقت بھارت میں سرمایہ کاری کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے، جبکہ بھارت جاپانی کمپنیوں کے لیے تیزی سے ابھرتی ہوئی اور قابلِ اعتماد سرمایہ کاری کی منزل بن چکا ہے۔