Bharat Express DD Free Dish

Ayatollah Ali Khamenei’s Funeral: آیت اللہ علی خامنہ ای کی رسومات میں شرکت کریں گی محبوبہ مفتی ، آخری رسومات 4 جولائی سے 9 جولائی 2026 تک رہیں گی جاری

ایرانی حکومت نے صرف محبوبہ مفتی ہی نہیں بلکہ کشمیر اور لداخ کی کئی اہم شخصیات کو بھی سفارتی ذرائع کے ذریعے دعوت نامے روانہ کیے ہیں۔ دعوت پانے والوں میں نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ اور شیعہ لیڈر آغا سید روح اللہ مہدی، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے لیڈر عمران انصاری، لداخ کے رکن پارلیمنٹ محمد حنیفہ، معروف شیعہ عالم مسرور عباس انصاری اور آغا سید حسن موسوی الصفوی شامل ہیں

نئی دہلی: ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری سطح پر منعقد ہونے والی آخری رسومات میں شرکت کے لیے دنیا بھر کے متعدد رلیڈروں کو دعوت نامے بھیجے گئے ہیں۔ انہی دعوت یافتہ شخصیات میں جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی بھی شامل ہیں، جنہوں نے ایران کی جانب سے موصول ہونے والی سرکاری دعوت قبول کر لی ہے۔ محبوبہ مفتی نے اپنی شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ “ان شاء اللہ” ایران جائیں گی۔ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات 4 جولائی سے 9 جولائی 2026 تک جاری رہیں گی۔ اس دوران تہران، قم اور مشہد میں مختلف سرکاری اور مذہبی تقریبات منعقد ہوں گی، جن میں دنیا کے کئی ممالک کے سیاسی، سفارتی اور مذہبی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔محبوبہ مفتی نے میڈیا سے گفتگو کے دوران ایران کے سفر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ سرکاری سوگ کے دوران ایرانی قیادت اور عوام سے اظہارِ تعزیت کریں گی اور آیت اللہ خامنہ ای کو آخری خراجِ عقیدت پیش کریں گی۔ ان کے مطابق یہ دورہ انسانی ہمدردی اور سفارتی آداب کے تحت کیا جا رہا ہے۔

ایرانی حکومت نے صرف محبوبہ مفتی ہی نہیں بلکہ کشمیر اور لداخ کی کئی اہم شخصیات کو بھی سفارتی ذرائع کے ذریعے دعوت نامے روانہ کیے ہیں۔ دعوت پانے والوں میں نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ اور شیعہ لیڈر آغا سید روح اللہ مہدی، جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس کے لیڈر عمران انصاری، لداخ کے رکن پارلیمنٹ محمد حنیفہ، معروف شیعہ عالم مسرور عباس انصاری اور آغا سید حسن موسوی الصفوی شامل ہیں۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ابتدائی طور پر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دی تھی، تاہم وزیر اعظم مودی پہلے سے طے شدہ سرکاری دوروں کی وجہ سے ایران نہیں جا سکیں گے۔ وہ ان دنوں انڈونیشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے طے شدہ سفارتی دوروں میں مصروف ہوں گے، جس کے باعث ان کی جگہ بھارت کی نمائندگی ایک اعلیٰ سطحی سرکاری وفد کرے گا۔

بھارتی وفد میں بہار کے گورنر لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) سید عطا حسنین اور وزیر مملکت برائے خارجہ پبتر مارگریٹا شامل ہوں گے۔ یہ وفد بھارت کی جانب سے ایرانی سسے تعزیت کرے گا اور آخری رسومات میں شرکت کرے گا۔ایران میں منعقد ہونے والی ان تقریبات میں بھارت کی مختلف سیاسی جماعتوں کے کئی نمایاں رہنماؤں کی شرکت بھی متوقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے قومی صدر نتن نوین، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، کانگریس کے سینئر لیڈرسلمان خورشید، پون کھیڑا، بی جے پی کے سینئر لیڈر مختار عباس نقوی، اتر پردیش کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود اور افضال انصاری بھی ایران جانے والے وفود میں شامل ہو سکتے ہیں۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات کے بعد ایران میں غیر معمولی سفارتی سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک سے اعلیٰ سطحی وفود تہران پہنچیں گے، جس سے یہ آخری رسومات بین الاقوامی سفارتی اہمیت کا بھی مظہر بن جائیں گی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read