نئی دہلی : جاپان کی وزیرِ اعظم سنائے تاکائیچی کا تین روزہ دورۂ بھارت دونوں ممالک کے اقتصادی اور تزویراتی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے والا قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دورے کا سب سے بڑا مرکز سرمایہ کاری، تجارت، سیمی کنڈکٹر سپلائی چین، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ راشٹرپتی بھون میں سرکاری استقبال کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ساتھ حیدرآباد ہاؤس میں دوطرفہ ملاقات ہوگی، جہاں متعدد اہم
اقتصادی اور تزویراتی امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
16واں بھارت-جاپان سربراہی اجلاس
اس دورے کی نمایاں خصوصیت 16واں سالانہ بھارت-جاپان سربراہی اجلاس ہوگا، جس میں دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ جاپان کے 150 سے زائد صنعت کار بھی شرکت کریں گے۔ اس سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ جاپان بھارت کو اپنی طویل مدتی سرمایہ کاری کی حکمتِ عملی کا اہم مرکز تصور کر رہا ہے۔ اجلاس میں دفاع، سمندری سلامتی، اقتصادی تحفظ، فارماسیوٹیکل صنعت، سیمی کنڈکٹر سپلائی چین اور مصنوعی ذہانت جیسے مستقبل کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر خصوصی زور دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک عالمی سپلائی چین کو مزید مضبوط اور قابلِ اعتماد بنانے کے لیے نئی شراکت داریوں پر بھی غور کریں گے۔
#WATCH | Delhi: Japanese Prime Minister Sanae Takaichi and Prime Minister Narendra Modi pose for photograph at the Rashtrapati Bhavan.
(Source: DD News) pic.twitter.com/LiNqMRH6uv
— ANI (@ANI) July 2, 2026
61 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ہدف
بھارت اور جاپان کے درمیان اقتصادی تعلقات مسلسل مستحکم ہو رہے ہیں۔ جاپان اس وقت بھارت میں سرمایہ کاری کرنے والا پانچواں بڑا ملک ہے، جبکہ بھارت جاپانی کمپنیوں کے لیے تیزی سے ابھرتی ہوئی اور قابلِ اعتماد سرمایہ کاری کی منزل بن چکا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت تقریباً 27.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔جاپان نے آئندہ دس برسوں میں بھارت میں 61 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ سرمایہ کاری مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے، ہائی ٹیک صنعت، گرین انرجی اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں نئی ترقی کے امکانات پیدا کرے گی۔
بھارت میں 1400 جاپانی کمپنیاں سرگرم
اس وقت بھارت میں تقریباً 1,400 جاپانی کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جن میں سے تقریباً نصف کا تعلق مینوفیکچرنگ کے شعبے سے ہے۔ ان میں 75 فیصد سے زائد کمپنیاں منافع میں ہیں، جو بھارتی معیشت کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ممبئی-احمد آباد ہائی اسپیڈ بلیٹ ٹرین منصوبے سمیت کئی بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں جاپان پہلے ہی اہم کردار ادا کر رہا ہے، اور آئندہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

