نئی دہلی : ملک کو نکسل ازم سے پاک بنانے کی مہم کے بعد مرکزی حکومت نے اب اپنی توجہ غیر قانونی دراندازی کے مسئلے پر مرکوز کر دی ہے۔ اسی سلسلے میں مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے 9 جولائی کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے ڈائریکٹر جنرلز آف پولیس (ڈی جی پیز)، ملک کی اہم سکیورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کے سربراہان کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے۔ اس اجلاس میں غیر قانونی دراندازوں کی شناخت، ان کی واپسی کے عمل کو تیز کرنے اور انہیں تحفظ فراہم کرنے والے پورے نیٹ ورک کے خلاف مشترکہ کارروائی کی حکمتِ عملی پر غور کیا جائے گا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اجلاس میں انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ (را)، نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے)، بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف)، سشستر سیما بل (ایس ایس بی) سمیت دیگر مرکزی سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ افسران شرکت کریں گے۔ اجلاس کا بنیادی مقصد ملک بھر میں غیر قانونی دراندازی کے خلاف ایک مربوط اور مؤثر قومی حکمتِ عملی تیار کرنا ہے تاکہ مختلف ریاستوں میں جاری کارروائیوں کو ایک مشترکہ قومی مہم کی شکل دی جا سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی نظر صرف سرحد پار کرکے بھارت میں داخل ہونے والے غیر قانونی افراد تک محدود نہیں ہے بلکہ ان عناصر پر بھی ہے جو انہیں جعلی شناختی دستاویزات فراہم کرتے ہیں، رہائش اور روزگار کا انتظام کرتے ہیں اور ملک کے مختلف حصوں تک پہنچانے میں مدد دیتے ہیں۔ حکومت کے مطابق یہ ایک منظم نیٹ ورک ہے، جس کی نشاندہی کرکے اس کے خلاف قانونی اور انتظامی کارروائی ناگزیر ہے۔ اجلاس میں اس پورے نظام کو توڑنے کے لیے جامع حکمتِ عملی پر خصوصی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے بھی اس معاملے کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ سال یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے سرحدی علاقوں میں آبادی کے تناسب میں آنے والی تبدیلیوں کو قومی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیا تھا۔ اس کے بعد وزارتِ داخلہ نے ریٹائرڈ جج جسٹس پرکاش سریواستو کی سربراہی میں ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی تھی، جو سرحدی علاقوں کے ساتھ ساتھ بڑے شہروں اور صنعتی مراکز میں غیر قانونی دراندازی اور اس کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔
حکومت کا ماننا ہے کہ اس مسئلے سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے مختلف ریاستوں کی الگ الگ کارروائیوں کے بجائے پورے ملک میں ایک مشترکہ اور مربوط مہم چلانا زیادہ سودمند ہوگا۔ ذرائع کے مطابق 9 جولائی کے اجلاس کے بعد مرکز اور ریاستوں کے درمیان ایک مشترکہ قومی ایکشن پلان کو حتمی شکل دی جا سکتی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد صرف غیر قانونی دراندازوں کی شناخت اور انہیں واپس بھیجنا نہیں ہوگا بلکہ ان کے سہولت کاروں، جعلی دستاویزات تیار کرنے والوں اور انہیں پناہ و روزگار فراہم کرنے والے پورے نیٹ ورک کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنانا ہوگا۔اب سب کی نظریں 9 جولائی کو ہونے والے اس اہم اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں سے غیر قانونی دراندازی کے خلاف ملک گیر کارروائی کا جامع خاکہ سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
