Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


نیپال کے فوجی سربراہ جنرل اشوک راج سگڈیل نے مظاہرین کو آخری وارننگ دی ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے سخت انتباہ دیتے ہوئے اپیل کی ہے کہ مظاہرین احتجاج بند کریں اور بات چیت کا راستہ اپنائیں۔

بدھ کی صبح کٹھمنڈو میں سڑکیں تقریباً سنسان نظر آئیں۔لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔شہر بھر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق پرتشدد جھڑپوں میں اب تک کم از کم 22 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ 500 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

پی ایم نریندر مودی نے لکھا:"بھارت اور امریکہ قریبی دوست اور فطری شراکت دار ہیں۔مجھے یقین ہے کہ ہماری تجارتی گفتگو بھارت-امریکہ شراکت داری کی بے شمار امکانات کو اجاگر کرنے کا راستہ ہموار کرے گی۔

آچاریا لوکیش منی نے یقین ظاہر کیا کہ:"سی پی رادھا کرشنن کا سیاسی اور انتظامی تجربہ، جو انہیں آر ایس ایس اور بی جے پی سے جوڑتا ہے، بھارت کی ترقی میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔"

آچاریا جی نے نوجوانوں کو خصوصی طور پر مخاطب کرتے ہوئے کہا:"سوشل میڈیا کی چمک میں گم ہونے کے بجائے، تپسیا کے نور کو اپناؤ۔"

پی ایم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے پیغامات میں کہا:"ہماچل پردیش اور پنجاب کے دورے سے واپسی کے بعد، کابینہ کی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں نیپال کے حالات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

8 اور 9 ستمبر کو نیپال میں جو کچھ ہوا، وہ تاریخ میں درج ہو چکا ہے۔ مظاہرین نے کئی وزیروں کو دوڑا دوڑا کر مارا، پارلیمنٹ ہاؤس کو آگ لگا دی، اور یہاں تک کہ نیپال کی تین بڑی جیلوں سے قیدی فرار ہو گئے۔ کٹھمنڈو کی نکھو جیل سے مظاہرین نے سابق وزیر داخلہ روی لامیچھانے کو بھی چھڑا لیا۔

آج دہلی میں کم سے کم درجہ حرارت 26 ڈگری سینٹی گریڈ اور زیادہ سے زیادہ 35 ڈگری یا اس سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔ ہوا میں نمی کا تناسب 58 سے 88 فیصد تک درج کیا جا رہا ہے۔ ان اشاروں سے لگتا ہے کہ دہلی میں مانسون اب رخصت ہونے کے قریب ہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب حال ہی میں روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر امریکہ نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس قدم کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ بڑھتا نظر آ رہا تھا۔

مرکز نے اعلان کیا ہے کہ ان کسانوں کو خاص مدد دی جائے گی جن کے پاس ابھی بجلی کے کنکشن نہیں ہیں۔ راشٹریہ کرشی وکاس یوجنا کے تحت سیلاب سے تباہ شدہ بور ویل کی مرمت کی جائے گی۔ ساتھ ہی ڈیزل پر چلنے والے پمپ کے لیے شمسی توانائی پر منتقلی کا عمل MNRE کے تعاون سے کیا جائے گا۔