Bharat Express DD Free Dish

Abul Kalam




Bharat Express News Network


امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے فی الحال ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی مؤخر کر دی ہے۔ کیا اس فیصلے کے پیچھے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی فون کال وجہ بنی؟ جانیے پورا معاملہ۔

پورنیہ کے رکنِ پارلیمنٹ پپو یادو نے ایک پریس کانفرنس کے دوران سناتن دھرم سے اپنی وابستگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے زعفرانی لباس پہننے کے اپنے حق پر زور دیتے ہوئے رام مندر ٹرسٹ پر بھی سوالات اٹھائے۔

گلاسگو کامن ویلتھ گیمز 2026 میں آج کا دن بھارت کے لیے ’سپر سنیچر‘ ثابت ہوا۔ بھارتی کھلاڑیوں نے محض تین گھنٹوں کے اندر سات تمغے جیت کر میڈل ٹیبل میں اپنی پوزیشن انتہائی مضبوط کر لی۔

ایران نے سخت انتباہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل نے اس پر حملہ کیا تو اس کا جواب نہایت شدید ہوگا، جس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی۔ ایران نے اپنے ممکنہ حملوں کے لیے چھ مقامات کی ایک مبینہ فہرست بھی جاری کی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو اس کے جوابی حملوں کی لپیٹ میں بحرین، سعودی عرب اور کویت سمیت خطے کے کئی اہم مقامات آ سکتے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے مرینا میں چکر آ کر گرنے والی ایک خاتون ٹیچر کو لوگوں نے ہارٹ اٹیک کا مریض سمجھ کر غلط طریقے سے سی پی آر (CPR) دے دیا، جس کے نتیجے میں ان کی دو پسلیاں ٹوٹ گئیں۔ ڈاکٹروں نے خبردار کیا ہے کہ طبی جانچ کے بغیر سی پی آر دینا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

کانپور دیہات کے دیہی باشندے آج بھی پانڈو ندی پر مستقل پل کی تعمیر کے منتظر ہیں۔ مجبوری کے عالم میں لوگ خستہ حال لکڑی اور بانس سے بنے عارضی پل کے ذریعے آمد و رفت کرنے پر مجبور ہیں۔

ملک کے بہادر فوجیوں کے اعزاز میں دہلی کے جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں ’سولجرتھون 2026‘ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ ’بھارت ایکسپریس‘ نیوز نیٹ ورک کے چیئرمین و منیجنگ ڈائریکٹر (CMD) اوپیندر رائے بھی اس تقریب میں شرکت کریں گے۔

بانکی پور ضمنی انتخاب کی ووٹوں کی گنتی سے قبل پرشانت کشور نے انتخابی عمل پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے پولیس اور انتظامیہ پر جانبداری کا الزام عائد کیا۔

کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی ہفتہ کے روز پارٹی کی فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے ساتھ بہار پہنچے۔

منشی پریم چند کی جینتی پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ادب سماجی احساسات اور مثالی تحریر کا بہترین سرچشمہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پریم چند کی تخلیقات آج بھی سماجی انصاف، انسانی اقدار اور حقیقت پسندانہ فکر کو سمجھنے کی سب سے بڑی تحریک فراہم کرتی ہیں۔