Urdu Conclave 2026

Rahmatullah




Bharat Express News Network


حکومت نے 17 ستمبر 2023 کو پی ایم وشوکرما کا آغاز کیا تھاتاکہ ان دستکاروں کو مدد فراہم کی جا سکے جو اپنے ہاتھوں اور اوزاروں سے کام کرتے ہیں۔ ان روایتی کاریگروں کو 'وشواکرما' کہا جاتا ہے اور وہ لوہار، سنار، کمہار، بڑھئی، مجسمہ ساز وغیرہ جیسے پیشوں میں ہوتے ہیں۔

قائد ایوان جے پی نڈا نے کہا کہ حکمران اتحاد کے ارکان گزشتہ دو دنوں سے جارج سوروس اور کانگریس کے سب سے سینئر رکن کے درمیان روابط کا مسئلہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپوزیشن اس معاملے سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک 'شرارتی' کوشش کررہی ہے۔

واضح رہے کہ سسودیا کو منسوخ شدہ دہلی ایکسائز پالیسی 2021-22 کی تشکیل میں ملوث ہونے اور اس کے نفاذ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے قبل سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) نے 26 فروری 2023 کو گرفتار کیا تھا۔

سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں متعدد عرضیاں ایسی دائر کی جاچکی ہیں جن میں ورشپ ایکٹ 1991 کو چیلنج کیا گیا ہے اور اس کو ہندووں کے ساتھ ناانصافی سے تعبیر کرتے ہوئے اس پر قانونی چارہ جوئی کی اپیل کی ہے۔

احتجاج کا مقصد ظاہر طور پر پیغام محبت ہے اور امن وبھائی چارے کا پیغام ہے جس کو لیکر اپوزیشن مسلسل حکومت سے شکایت کرتی رہی ہے اور پارلیمنٹ میں بھی اپوزیشن کے رہنماوں کے ساتھ اظہار محبت کیلئے حکومت کو ایک دعوت ہے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ اس طرح کے معاملات میں مبہم اور عام الزامات لگانے سے قانونی عمل کا غلط استعمال ہوگا اور بیوی اور اس کے اہل خانہ کی طرف سے  ایک ہتھیار کے طور پر اس  کو استعمال کرنے کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

مرکزی وزیرصحت جے پی نڈا نے کہا کہ ریاستوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ ویکسین کے ضمنی اثرات سے متعلق معاملات کی رپورٹنگ میں اضافہ کریں۔ حکومت آگاہی پھیلانے کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کر رہی ہے۔

محمد البشیر نے 2007 میں حلب یونیورسٹی سے شعبہ مواصلات میں الیکٹریکل اور الیکٹرانک انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، انہوں نے 2011 میں شامی گیس کمپنی سے منسلک گیس پلانٹ میں پریزیشن انسٹرومینٹیشن ڈپارٹمنٹ کے سربراہ کے طور پر کام کیا۔

اس دورے کے دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے روس سے درخواست کی ہے کہ وہ ایس400 ٹریومپھ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سسٹم کے باقی دو یونٹس کی سپلائی کو تیز کرے۔ انہوں نے ماسکو میں اپنے ہم منصب آندرے بیلوسوف کے ساتھ لمبی بات چیت کی۔

اس  پروجیکٹ کی جانکاری رکھنے والے عہدیداروں نے بتایا کہ یہ پروجیکٹ تکمیل کے قریب ہے اور اڈانی پورٹس کی اس میں 51 فیصد حصہ داری ہے۔ اڈانی گروپ کی اس کمپنی نے ڈی ایف سی فنڈنگ ​​کے بغیر اس پروجیکٹ کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔