Bharat Express DD Free Dish

Abdul El-Sayed launches Habibi PAC: امریکی سینیٹ کے پہلے مسلم رکن منتخب ہونے کے بعد سینیٹر عبدل السید نے ’حبیبی پی اے سی‘ کے نام سے تشکیل دی سیاسی ایکشن کمیٹی

واضح رہے کہ سیاسی ایکشن کمیٹیاں (پی اے سی) ایسی تنظیمیں ہوتی ہیں جو عوامی عہدوں کے امیدواروں کی حمایت یا مخالفت کے لیے رقم جمع کرتی اور خرچ کرتی ہیں۔ ان میں لیڈرشپ پی اے سی منتخب نمائندوں اور قانون سازوں کو اپنی انتخابی مہم سے الگ رہتے ہوئے دیگر امیدواروں اور سیاسی تنظیموں کی مدد کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

واشنگٹن: مشی گن سے نومنتخب امریکی سینیٹر عبدل السید نے تاریخی انتخابی کامیابی کے چند روز بعد ’حبیبی پی اے سی‘ کے نام سے ایک سیاسی ایکشن کمیٹی (پی اے سی) قائم کر دی ہے۔ وہ امریکی سینیٹ کے پہلے مسلم رکن منتخب ہوئے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، جمعرات کو وفاقی الیکشن کمیشن (ایف ای سی) میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں اس کمیٹی کو عبدل السید کی سرپرستی میں قائم ہونے والی ’لیڈرشپ پی اے سی‘ کے طور پر رجسٹر کیا گیا ہے۔ اس نوعیت کی کمیٹیاں سیاست دانوں کی اپنی انتخابی مہم سے الگ کام کرتی ہیں۔ ان کا مقصد دیگر سیاسی امیدواروں اور سرگرمیوں کی حمایت کے لیے فنڈز جمع کرنا اور خرچ کرنا ہوتا ہے۔ ’حبیبی‘ عربی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ’میرے عزیز‘ یا ’میرے محبوب‘ ہے۔ عبدل السید نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اس لفظ کا بار بار استعمال کیا تھا۔ انہوں نے ڈیٹرائٹ میں اپنی کامیابی کی تقریر کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے خطاب کرتے ہوئے بھی یہ لفظ استعمال کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا، ’’جے ڈی، حبیبی! یہ کتنی دلچسپ ستم ظریفی ہے کہ آئینی طور پر جنوری میں آپ ہی کو مجھے حلف دلانا ہوگا۔‘‘

دیگر نومنتخب ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی بنائی کمیٹیاں

الجزیرہ کے مطابق، ایف ای سی میں جمع کرائی گئی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ منگل کے انتخابات کے بعد عبدل السید ان کئی نومنتخب ڈیموکریٹ رہنماؤں میں شامل ہیں، جنہوں نے اپنی لیڈرشپ پی اے سی رجسٹر کرائی ہے۔ ان میں ایریزونا سے نومنتخب کانگریس رکن امیش شاہ بھی شامل ہیں، جنہوں نے ’پی اے سی اسٹریٹ بوائے‘ کے نام سے کمیٹی قائم کی ہے۔ اسی طرح آئیووا سے نومنتخب سینیٹر جوش ٹوریک نے ’وہیل پی اے سی‘ جبکہ شمالی کیرولائنا سے نومنتخب سینیٹر رائے کوپر نے ’ون این سی پی اے سی‘ رجسٹر کرائی ہے۔ الجزیرہ نے اوپن سیکریٹس کے حوالے سے بتایا کہ لیڈرشپ پی اے سی اکثر ایسے قانون سازوں کے لیے سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کا ذریعہ بنتی ہیں، جو مستقبل میں اپنی پارٹی میں اہم عہدے یا کمیٹیوں کی سربراہی حاصل کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ یہ کمیٹیاں عموماً دوسرے قانون سازوں، سیاسی جماعتوں اور سیاسی کمیٹیوں کو مالی تعاون فراہم کرتی ہیں۔

2024 میں لیڈرشپ پی اے سی نے 7 کروڑ 93 لاکھ ڈالر دیے

اوپن سیکریٹس کے اعداد و شمار کے مطابق، 2024 کے انتخابی دور میں لیڈرشپ پی اے سی نے وفاقی عہدوں کے امیدواروں کو مجموعی طور پر 79.3 ملین ڈالر کی مالی مدد فراہم کی تھی۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اس رقم کا زیادہ تر حصہ ریپبلکن امیدواروں کو ملا، تاہم سب سے زیادہ انفرادی عطیہ دینے والی کمیٹی ایک ڈیموکریٹک لیڈرشپ پی اے سی تھی۔ مصری تارکین وطن کے گھرانے میں پیدا ہونے والے عبدل السید نے انتخابی مقابلے میں ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی تھی۔ ان کی انتخابی مہم کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور سینیٹر ٹیڈ کروز نے ان کی وفاداری پر سوال اٹھائے تھے۔ ان رہنماؤں نے انہیں ’جہادی‘ بھی قرار دیا اور بغیر کسی ثبوت کے ان کا تعلق اخوان المسلمون تحریک سے جوڑنے کی کوشش کی تھی۔

سیاست سے پیسے کا اثر ختم کرنا انتخابی وعدوں میں شامل

سیاست میں دولت کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا عبدل السید کے انتخابی وعدوں میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ اپنی کامیابی کی تقریر میں انہوں نے اپنی جیت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیسے اور عوام کے درمیان مقابلے میں ’’اکثریت جیت سکتی ہے۔‘‘ ان کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں وسط مدتی انتخابات تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات ثابت ہوئے ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق، اوپن سیکریٹس کی جانب سے ایف ای سی کے اعداد و شمار کے تجزیے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس انتخابی دور میں مجموعی اخراجات 11.9 ارب ڈالر تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ 2022 میں یہ رقم 8.9 ارب ڈالر تھی۔ سپر پی اے سی کے ذریعے ہونے والے بیرونی اخراجات 3.9 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو 2022 کے وسط مدتی انتخابات کے مقابلے میں 85 فیصد زیادہ ہیں۔ دوسری جانب، ایسے عطیات جن کے دینے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی جاتی، جنہیں ’ڈارک منی‘ کہا جاتا ہے، اب تک کم از کم 1.47 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ اس طرح 2024 کے انتخابی دور میں قائم ہونے والا 1.35 ارب ڈالر کا سابقہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا ہے۔ 2024 کے انتخابات میں صدارتی انتخاب بھی شامل تھا۔ اوپن سیکریٹس کے مطابق، بیرونی اخراجات کے معاملے میں قدامت پسند گروپوں نے لبرل گروپوں کے مقابلے میں تقریباً 360 ملین ڈالر زیادہ خرچ کیے، جبکہ ڈیموکریٹک امیدواروں کے ریپبلکن امیدواروں سے تقریباً 800 ملین ڈالر زیادہ خرچ کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سیاسی ایکشن کمیٹیاں (پی اے سی) ایسی تنظیمیں ہوتی ہیں جو عوامی عہدوں کے امیدواروں کی حمایت یا مخالفت کے لیے رقم جمع کرتی اور خرچ کرتی ہیں۔ ان میں لیڈرشپ پی اے سی منتخب نمائندوں اور قانون سازوں کو اپنی انتخابی مہم سے الگ رہتے ہوئے دیگر امیدواروں اور سیاسی تنظیموں کی مدد کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read