کیمرے کے سامنے انقلاب کی باتیں اور کیمرے کے پیچھے خاموشی! پردے پر ناانصافی کے خلاف لڑنے والے ہیرو حقیقی زندگی میں عوام کے مسائل پر آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ جب عوام اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر اترتے ہیں، لاٹھیاں کھاتے ہیں اور پانی کی بوچھاروں کا سامنا کرتے ہیں تو بڑے بڑے فلمی ستارے کہاں غائب ہوجاتے ہیں؟ کروڑوں کی کمائی، لاکھوں مداح اور سوشل میڈیا پر مسلسل سرگرمی کے باوجود عوامی مسائل پر ان کی خاموشی کیوں برقرار رہتی ہے؟ ممبئی کے اندھیری ویسٹ میں واقع مکتی آڈیٹوریم میں ’تہذیب‘ کے پلیٹ فارم پر منعقدہ پروگرام کے دوران ایڈیٹر سنجے شرما نے بالی ووڈ کی خاموشی پر کئی سوالات اٹھائے۔ اس موقع پر اداکار منوج باجپائی بھی موجود تھے اور سنجے شرما کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ سنجے شرما نے پوچھا کہ فلمی ستارے بڑے عوامی مسائل پر خاموش کیوں رہتے ہیں؟ اس کے جواب میں منوج باجپائی نے دو ٹوک انداز میں سوال کیا، ’’جو لوگ عوام کے مسائل پر خاموش رہتے ہیں، انہیں آپ اسٹار کیوں مانتے ہیں؟‘‘ یہیں سے اصل بحث شروع ہوئی کہ آخر اسٹارڈم کیا ہے؟ مہنگے کپڑے، چمکتی ہوئی تصویریں اور سوشل میڈیا پر موجودگی یا ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے کا حوصلہ؟ سنجے شرما نے امیتابھ بچن کی سوشل میڈیا پر سرگرمی کا ذکر کرتے ہوئے بڑے مسائل پر ان کی خاموشی سے متعلق سوال اٹھایا۔ تاہم، منوج باجپائی نے کسی ایک اداکار پر ذاتی حملہ کرنے کے بجائے پوری فلمی برادری کو خود احتسابی کا پیغام دیا۔
ناصرالدین شاہ اور پیوش مشرا کے نظریاتی اختلافات پر بھی گفتگو
سنجے شرما نے منوج باجپائی سے ناصرالدین شاہ اور پیوش مشرا کے درمیان نظریاتی اختلافات کے بارے میں بھی سوال کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ دونوں فنکاروں کے خیالات اور عوامی بیانات کے حوالے سے منوج کی کیا رائے ہے اور وہ کس کے نظریات سے زیادہ قریب ہیں؟ اس سوال کے جواب میں منوج باجپائی نے ناصرالدین شاہ کے لیے اپنی گہری عزت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا اتنا احترام کرتے ہیں کہ اگر ناصرالدین شاہ انہیں تھپڑ بھی مار دیں تو وہ اسے قبول کرلیں گے۔ ان کا یہ بیان ناصرالدین شاہ کے لیے ان کے ذاتی احترام کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ منوج نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جمہوریت میں ہر شخص کو اپنی رائے رکھنے اور اختلاف ظاہر کرنے کا حق حاصل ہے۔ کسی فنکار کا کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرنا اس کے خلاف نہیں جانا چاہیے۔ سماج میں مختلف نظریات کے لیے جگہ ہونا ضروری ہے۔
فلم ’سہیا‘ کی سرٹیفکیشن اور اظہارِ رائے کی آزادی کا مسئلہ
پروگرام کا ایک اہم حصہ اس وقت سامنے آیا جب سنجے شرما نے اپنی فلم ’سہیا‘ کو مرکزی فلم سرٹیفکیشن بورڈ کی جانب سے سرٹیفکیٹ نہ دیے جانے اور اس معاملے پر جاری قانونی لڑائی کا ذکر کیا۔ سنجے شرما نے بتایا کہ ان کی فلم ’سہیا‘ بنیادی طور پر ایک محبت کی کہانی ہے، لیکن سنسر بورڈ نے اس پر نکسل واد اور قبائلیوں کے استحصال جیسے الزامات عائد کرتے ہوئے اس کی سرٹیفکیشن روک دی ہے۔ انہوں نے منوج باجپائی سے سوال کیا کہ آخر فلم سازوں کو اپنی بات کہنے کی کتنی آزادی ملنی چاہیے؟ کیا اس طرح کی سنسرشپ تخلیقی آزادی کے لیے خطرہ نہیں ہے؟ اس پر منوج باجپائی نے سنجے شرما کے ساتھ کھڑے ہونے کی یقین دہانی کرائی اور کہا، ’’آپ آگے بڑھیے، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


